MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسے جلتا کہاں جلانے سے

ایسے جلتا کہاں جلانے سے
آشیاں جل گیا بجھانے سے

کون چھو کر گیا خیالوں کو
راگ چھڑ گیا گنگنانے سے

آتش ے شوق اسقدر بھڑکی
بجھ سکی یہ نہ پھر بھجانے سے

تیرگی چھا گئ مکانوں میں
دیپ ہی بجھا دہیے زمانے نے

بادباں اڑ گئے جہازوں کے
پھر ہواوں کے ورغلانے سے

اب خدا کی ،کہاں ہے تو لاٹھی
ظلم روکے گی کب تو ،ڈھانے سے

گلِ نسرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم