MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نگاہ مست کو مصروف ناز رہنے دے

نگاہ مست کو مصروف ناز رہنے دےکچھ اور روز مجھے پاکباز رہنے دے علاج درد مرے چارہ ساز رہنے دےکہ یہ خلش ہے بڑی دل نواز رہنے دے جو فاش ہو نہ سکے اس کو فاش کر کے چھوڑجو راز رہ نہ سکے اس کو راز رہنے دے لطافت غم الفت کا واسطہ اے دوستحیات […]

نگاہ مست کو مصروف ناز رہنے دے Read More »

ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دی

ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دیتجلی نے تری واں وسعت کون و مکاں رکھ دی خبر ہے تجھ کو اے باد بہاری درد مندوں کیگلوں نے پیاس کی شدت سے کانٹوں پر زباں رکھ دی چمن میں میرے ہی تنکوں پہ ہر بجلی کی نظریں ہیںمری قسمت کہ پھر میں نے

ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دی Read More »

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیااس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا تلاش دوست کو اک عمر چاہئے اے دوستکہ ایک عمر ترا انتظار ہم نے کیا تیرے خیال میں دل شادماں رہا برسوںترے حضور اسے سوگوار ہم نے کیا یہ تشنگی ہے کے ان سے قریب رہ کر بھیحفیظؔ یاد

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا Read More »

راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچے

راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچےبات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچے کیا تصرف ہے ترے حسن کا اللہ اللہجلوے آنکھوں سے اتر کر دل و جاں تک پہنچے تری منزل پہ پہنچنا کوئی آسان نہ تھاسرحد عقل سے گزرے تو یہاں تک پہنچے حیرت عشق مری حسن کا آئینہ ہےدیکھنے

راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچے Read More »

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گےتیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے عشق کی منزل اول پہ ٹھہرنے والواس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے تو جہاں جائے گی غارت گر ہستی بن کرہم بھی اب ساتھ ترے گردش دوراں ہوں گے کس قدر سخت ہے یہ ترک

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے Read More »

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کاارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزلرستے میں جنہیں پاس رہا ہم سفری کا اب خانقہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایکاک سلسلہ ہے قافلۂ بے خبری کا ہر نقش ہے آئینۂ نیرنگ تماشادنیا ہے کہ حاصل مری حیراں نظری

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا Read More »

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسوجو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئے وفائے عہد ہے یہ پا شکستگی تو نہیںٹھہر گیا کہ مرے ہم سفر نہیں آئے نہ چھیڑ ان کو خدا کے لیے کہ اہل وفابھٹک گئے ہیں تو پھر راہ پر نہیں آئے ابھی ابھی وہ گئے

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو Read More »

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تکشریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشم کرم ہےستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گیاگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے Read More »

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئیہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئی یا خلا پر حکمراں یا خاک کے اندر نہاںزندگی ڈٹ کر عناصر کے مقابل آ گئی بڑھ رہا ہے دم بدم صبح حقیقت کا یقیںہر نفس پر یہ گماں ہوتا ہے منزل آ گئی ٹوٹتے جاتے ہیں

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی Read More »

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئیکہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئی دل ستم زدہ کو جیسے کچھ ہوا ہی نہیںخود اپنے حسن سے یوں بے خبر گیا کوئی وہ ایک جلوۂ صد رنگ اک ہجوم بہارنہ جانے کون تھا جانے کدھر گیا کوئی نظر کہ تشنۂ دیدار تھی رہی

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی Read More »