MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نگاہ مست کو مصروف ناز رہنے دے

نگاہ مست کو مصروف ناز رہنے دے
کچھ اور روز مجھے پاکباز رہنے دے

علاج درد مرے چارہ ساز رہنے دے
کہ یہ خلش ہے بڑی دل نواز رہنے دے

جو فاش ہو نہ سکے اس کو فاش کر کے چھوڑ
جو راز رہ نہ سکے اس کو راز رہنے دے

لطافت غم الفت کا واسطہ اے دوست
حیات و موت میں کچھ امتیاز رہنے دے

نگاہ یار تجھے جور بے سبب کی قسم
نوازش غم پنہاں کو راز رہنے دے

مرے خیال کو ہر دم تری ضرورت ہے
تصورات کو زینت طراز رہنے دے

زمانہ بھر میں کوئی غزنوی نہاد نہیں
حدیث طرۂ زلف ایاز رہنے دے

حیات گلشن مغرب تجھے مبارک ہو
مجھے شہید فضائے حجاز رہنے دے

حدیث‌ درد محبت نہ کر بیاں ماہرؔ
حقیقتوں کو اسیر مجاز رہنے دے

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم