MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ترا خیال کر کے دل نشیں میں نے

ترا خیال کر کے دل نشیں میں نےمٹا دیا ہے جو تھا فرق کفر و دیں میں نے محبت اور محبت میں وسوسے دل کےبنایا خود ہی زمانہ کو نکتہ چیں میں نے جنون عشق پہ اب دیکھیں کیا کہے دنیابنا لیا ہے گریباں کو آستیں میں نے ہزار ہے مہ و انجم میں جلوہ […]

ترا خیال کر کے دل نشیں میں نے Read More »

سر لا مکاں سے طلب ہوئی

سرِ لامکاں سے طلب ہوئیسوئے منتہی وہ چلے نبی کوئی حد نہ ان کے عروج کیبلغ العلیٰ بکمالہ یہی ابتداء یہی انتہایہ فروغِ جلوہ حق نما کہ جہان سارا چمک اٹھاکشف الدجیٰ بجمالہ رُخ مصطفیٰ کی یہ روشنییہ تجلیوں کی ہماہمی کہ ہر ایک چیز چمک اٹھیکشف الدجیٰ بجمالہ وہ سراپا رحمتِ کبریاکہ ہر اک

سر لا مکاں سے طلب ہوئی Read More »

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرااس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیںنور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھےچھلک اٹھتا ہے میری روح میں مینا تیرا پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا Read More »

مناجات

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترےوہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کھِلا رہے برسوںیہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہےاور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیںکہ پتھروں

مناجات Read More »

میرے رشکِ قمر، تو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

میرے رشکِ قمر، تو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیابرق سی گر گئی، کام ہی کر گئی، آگ ایسی لگائی مزا آ گیا جام میں گھول کر حُسن کی مستیاں، چاندنی مسکرائی مزہ آگیاچاند کے سائے میں اے میرے ساقیا! تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا​نشہ شیشے میں انگڑائی لینے

میرے رشکِ قمر، تو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیا Read More »

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جامری زندگی کے مالک مری زندگی میں آ جا نہ غرض صنم کدے سے نہ حرم سے کوئی مطلبمجھے واسطہ ہے تجھ سے مرے دل میں تو سما جا تو بچھڑ گیا ہے جب سے مری نیند اڑ گئی ہےتری راہ تک رہا ہوں مرے چاند اب

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا Read More »

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچاتمہارے عشق میں دیوانۂ منزل کہاں پہنچا نظر کی منزلوں میں بس تمہیں حسن مجسم تھےمتاع آرزو لے کر میں الفت میں جہاں پہنچا اسی نے عشق بن کر دو جہاں کو پھونک ڈالا ہےوہ شعلہ جو تری نظروں سے دل کے درمیاں پہنچا جنوں ظاہر ہوا

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا Read More »

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہےجلوۂ یار نے مدہوش بنا رکھا ہے موت سے آپ کی الفت نے بچا رکھا ہےورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے عرصۂ حشر میں رسوائی یقینی تھی مگرتیری رحمت نے ہر اک جرم چھپا رکھا ہے منزل دیر و حرم چھوڑ کے اے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے Read More »

حرم ہے کیا چیز دیر کیا ہے کسی پہ میری نظر نہیں ہے

حرم ہے کیا چیز دیر کیا ہے کسی پہ میری نظر نہیں ہےمیں تیرے جلووں میں کھو گیا ہوں مجھے اب اپنی خبر نہیں ہے جنہیں ہے ڈر راہ امتحاں سے انہیں ابھی یہ خبر نہیں ہےاگر کرم ان کا راہبر ہو کٹھن کوئی رہ گزر نہیں ہے بہ شوق سجدہ چلے ہیں لیکن عجیب

حرم ہے کیا چیز دیر کیا ہے کسی پہ میری نظر نہیں ہے Read More »

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گادل بے خبر گردش ایام رہے گا مٹ جائے گا ہر نقش خیال غم ہستیلیکن ورق دل پہ ترا نام رہے گا کیوں ڈر ہے گناہوں کے سبب حشر کے دن سےہم جانتے ہیں ان کا کرم عام رہے گا پیغام تو آئیں گے بہت دیر و

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا Read More »