MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ دور اس سے نہیں تو اے دل رنجور ہوجانا

نہ دور اس سے نہیں تو اے دل رنجور ہوجاناکہ ان سے دور ہونا ہے خدا سے دور ہوجانا ہوا ان کو گوارا دل ہی میں مستور ہو جانامبارک دل کے داغوں کو چراغ طور ہوجانا ترے جلوؤں کو وقت صبح میں نے خوب دیکھا ہےنکھر کر خلد بن جانا سنور کر حور ہوجانا یہ […]

نہ دور اس سے نہیں تو اے دل رنجور ہوجانا Read More »

چہرے سے وہ نقاب جو سرکا کے رہ گئے

چہرے سے وہ نقاب جو سرکا کے رہ گئےارمان میری چشم تمنا کے رہ گئے میخانہ امید میں ہم جاکے رہ گئےساقی نے ڈالی آنکھ تو غش کھا کے رہ گئے لائے نہ تاب دید تو غش کھا کے رہ گئےدعوے تمام حضرت موسیٰ کے رہ گئے ہم اپنی سخت جانی سے جھنجھلا کے رہ

چہرے سے وہ نقاب جو سرکا کے رہ گئے Read More »

جلوے تو نظر میں سماجائیں جلوؤں میں سمانا مشکل ہے

جلوے تو نظر میں سماجائیں جلوؤں میں سمانا مشکل ہےطوفان تجلی میں کھو کر پھر آپ کو پانا مشکل ہے تفسیر بقا کا یہ مضموں ہے راز کتاب کن فیکوںہستی کا صفحۂ ہستی سے ہر نقش مٹانا مشکل ہے وہ جس کے حسین تبسم سے غنچوں میں تبسم پیدا ہواس برق نظر کا گلشن پر

جلوے تو نظر میں سماجائیں جلوؤں میں سمانا مشکل ہے Read More »

اگر پردے سے باہر وہ سراپا نور ہوجائے

اگر پردے سے باہر وہ سراپا نور ہوجائےیہیں اک وادیٔ ایمن بنے اک طور ہوجائے فغانِ دل شکستِ صد حجابِ نور ہوجائےنگاہِ شوق کیوں صحرانوردِ طور ہوجائے مسخّر جس نظر نے کر لئے کون و مکاں دونوںعجب کیا کائناتِ دل اگر مسحور ہوجائے تصور جب رخِ تاباں کا ہو میری نگاہوں میںتجلی سے بُن کون

اگر پردے سے باہر وہ سراپا نور ہوجائے Read More »

اتنا نہ فریب الفت میں یہ جذبۂ کامل آجائے

اتنا نہ فریب الفت میں یہ جذبۂ کامل آجائےہر گام قریب منزل ہو ہر گام پہ منزل آجائے جلوؤں کی نمائش ہے اس میں خود ان کی رہائش ہے اس میںاب وادیٔ ایمن سے کہہ دو اس دل کے مقابل آجائے اتنی تو عطا ہو جانیں اتنے تو عطا ہوں دل مجھ کوہر ناز پہ

اتنا نہ فریب الفت میں یہ جذبۂ کامل آجائے Read More »

اس شان کرم کا کیا کہنا در پہ جو سوالی آتے ہیں

اس شان کرم کا کیا کہنا در پہ جو سوالی آتے ہیںاک تری کریمی کا صدقہ وہ من کی مرادیں پاتے ہیں خالی نہ رہی رحمت سے تری دکھ درد کے ماروں کی جھولیکیا تیرا کرم ہے در پہ تیری بھر دی ہے ہزاروں کی جھولی دن رات ہے منگتوں کا پھیرا کیا خوب سکھی

اس شان کرم کا کیا کہنا در پہ جو سوالی آتے ہیں Read More »

بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

قوالی   بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالیکچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والیاس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تو نے ڈالی زندگی بخش دی بندگی کو

بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی Read More »

مغرور نہ اتنا ہو دلبر تو اور نہیں میں اور نہیں

مغرور نہ اتنا ہو دلبر تو اور نہیں میں اور نہیںبے وجہ نہ مجھ سے پھیر نظر تو اور نہیں میں اور نہیں یہ حسن جوانی یہ شوخی ہے چار دنوں کی رنگینیتو ناز نہ کر ان باتوں پر تو اور نہیں میں اور نہیں تو ایک حسیں ہے لاکھوں میں یہ مان لیا میں

مغرور نہ اتنا ہو دلبر تو اور نہیں میں اور نہیں Read More »

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھیہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھیہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی پیتا ہوں میں شراب محبت تو کیا ہواپیتا ہے یہ شراب تو پروردگار بھی ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملالدل مطمئن

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی Read More »

جوانی میں ادائے کمسنی اچھی نہیں لگتی

جوانی میں ادائے کمسنی اچھی نہیں لگتیچمن میں پھول کے آگے کلی اچھی نہیں لگتی اجازت ہو تو ہم اس شمع محفل کو بجھا ڈالیںتمہارے سامنے یہ روشنی اچھی نہیں لگتی پریشاں کس لئے ہیں چاند سے رخسار پر گیسوہٹا لیجے کہ دھندلی چاندنی اچھی نہیں لگتی نہ آپ آئے نہ کچھ اپنی خبر بھیجی

جوانی میں ادائے کمسنی اچھی نہیں لگتی Read More »