MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی
ہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی

افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھی
ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی

پیتا ہوں میں شراب محبت تو کیا ہوا
پیتا ہے یہ شراب تو پروردگار بھی

ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملال
دل مطمئن بھی آپ سے ہے بے قرار بھی

آ کر وہ میری لاش پہ یہ کہہ کے رو دیے
تم سے ہوا نہ آج مرا انتظار بھی

اے دوست بعد مرگ بھی میں ہوں شکستہ حال
دل کی طرح سے ٹوٹا ہوا ہے مزار بھی

پرنمؔ یہ سب کرم ہے قمرؔ کا جو آج کل
ہوتا ہے اہل فن میں تمہارا شمار بھی

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم