MOJ E SUKHAN

جوانی میں ادائے کمسنی اچھی نہیں لگتی

جوانی میں ادائے کمسنی اچھی نہیں لگتی
چمن میں پھول کے آگے کلی اچھی نہیں لگتی

اجازت ہو تو ہم اس شمع محفل کو بجھا ڈالیں
تمہارے سامنے یہ روشنی اچھی نہیں لگتی

پریشاں کس لئے ہیں چاند سے رخسار پر گیسو
ہٹا لیجے کہ دھندلی چاندنی اچھی نہیں لگتی

نہ آپ آئے نہ کچھ اپنی خبر بھیجی شب وعدہ
مجھے ایسی شرارت آپ کی اچھی نہیں لگتی

مجھے پہچان کر مجھ سے نگاہیں پھیرنے والے
سر محفل یہ تیری بے رخی اچھی نہیں لگتی

خلوص دل سے جو ہوتی ہے خالی یہ حقیقت ہے
خدا کو شیخ جی وہ بندگی اچھی نہیں لگتی

غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو
ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی

گلی تیری بری لگتی نہیں تھی جان جاں لیکن
نہیں ہے جب سے تو تیری گلی اچھی نہیں لگتی

خوشی سے موت آئے اب مجھے مرنا گوارا ہے
گئے وہ جب سے مجھ کو زندگی اچھی نہیں لگتی

نہ چھیڑو ہم نشینو شام غم پرنمؔ کو رونے دو
مصیبت میں کسی کی دل لگی اچھی نہیں لگتی

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم