MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
گنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں

شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانے
عمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں

دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کو
شب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں

آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

آج بھی ملتے ہیں منصور ہزاروں، لیکن
اب انا الحق کی صلابت نہیں کرداروں میں

نہ کرو ظلِ الہی کی برائی کوئی؟
دوستو! کفر نہ پھیلاؤ نمک خواروں میں

وہی ہر دور کے نمرود کے مجرم ہیں، جنھیں
پھول کھلتے نظر آ جاتے ہیں انگاروں میں
٭٭٭
احمد ندیم قاسمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم