MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسےیا کہیں پہلے پہل آنکھ لڑی ہو جیسے کتنی یادوں نے ستایا ہے مری یاد کے ساتھغم دوراں غم جاناں کی کڑی ہو جیسے بوئے کاکل کی طرح پھیل گیا شب کا سکوتتیری آمد بھی قیامت کی گھڑی ہو جیسے یوں نظر آتے ہیں اخلاص میں ڈوبے […]

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے Read More »

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دلکیا کوئی دے گا تجھے اس سے زیادہ اے دل مدتوں جان چھڑکتے رہے جس لمس پہ وہاوڑھ کر آ گیا خوشبو کا لبادہ اے دل سوچ زنجیر بہ پا فکر ہے پابند رسنکیا یہی صبح تمنا کا ہے جادہ اے دل اب بھی روشن کئے بیٹھا ہے

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل Read More »

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیاخوشبوؤں کا قحط ہے گاؤں میں کیا کم نہیں گہرے سندر سے جو دلوہ بھلا ڈوبے گا دریاؤں میں کیا ہر طرف روشن ہیں یادوں کے کلسگھر گئے ہیں ہم کلیساؤں میں کیا جن کی آنکھوں میں ہے نیندوں کا غبارروشنی پائیں گے صحراؤں میں کیا رات دن قرنوں

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا Read More »

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکیہمارا ساتھ یہ دنیا مگر نبھا نہ سکی بکھر گیا ہوں فضاؤں میں بوئے گل کی طرحمرے وجود میں وسعت مری سما نہ سکی ہر اک قدم پہ صلیب آشنا ملے مجھ کویہ کائنات وفاؤں کا بار اٹھا نہ سکی پٹک کے رہ گئی سر اپنا رہ

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی Read More »

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوںہوں اشک اشک مگر اپنے ہی وجود میں ہوں کسی نے نغموں میں تحلیل کر دیا ہے مجھےنہ گنگناؤ کہ میں پردۂ سرود میں ہوں تو اپنی ذات سے مجھ کو الگ نہ جان کہ میںترے جمال کی نکہت کے تار و پود میں ہوں ہزار رنگ میں دیکھا

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں Read More »

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہےادراک بھی انساں کے لیے طرفہ بلا ہے ہر نقش اگر تیرا ہی نقش کف پا ہےپھر میرے لیے کوئی سزا ہے نہ جزا ہے ہونٹوں پہ ہنسی سینوں میں کہرام بپا ہےدیوانوں نے جینے کا چلن سیکھ لیا ہے اب دشت جنوں بھی جو سمٹ آئے عجب کیادیوانہ

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے Read More »

صحرائے خیال کا دیا ہوں

صحرائے خیال کا دیا ہوںویرانۂ شب میں جل رہا ہوں ساغر کی طرح سے چور ہو کرمحفل میں بکھر بکھر گیا ہوں اپنے ہی لہو کی روشنی میںنیرنگ جہاں کو دیکھتا ہوں وہ چاند ہوں گردشوں میں آ کرخود اپنی نظر سے کٹ گیا ہوں ہر عہد ہے میرے دم سے رنگینمیں نغمۂ ساز ارتقا

صحرائے خیال کا دیا ہوں Read More »

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارےابھرنے سے پہلے نہ ڈوبیں ستارے بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھوکہاں تک چلو گے کنارے کنارے عجب چیز ہے یہ محبت کی بازیجو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے سیہ ناگنیں بن کے ڈستی ہیں کرنیںکہاں کوئی یہ روز روشن گزارے سفینے وہاں ڈوب کر ہی رہے

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے Read More »

یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفا

یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفانہ روشنی کی کرن ہے کہیں نہ تازہ ہوا ہوئی ہے جب سے یہاں نطق و لب کی بخیہ گریسوائے حسرت اظہار دل میں کچھ نہ رہا اس اہتمام سے شب خوں پڑا کہ مدت سےاجاڑ سی نظر آتی ہے شہر دل کی فضا تمام عمر اسی کی

یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفا Read More »

زخم کچھ ایسے مرے قلب و جگر نے پائے

زخم کچھ ایسے مرے قلب و جگر نے پائےعمر بھر جو کسی عنوان نہ بھرنے پائے ہم نے اشکوں کے چراغوں سے سجا لیں پلکیںکہ ترے درد کی بارات گزرنے پائے اس سے کیا پوچھتے ہو فلسفۂ موت و حیاتکہ جو زندہ بھی رہے اور نہ مرنے پائے اس لیے کم نظری کا بھی ستم

زخم کچھ ایسے مرے قلب و جگر نے پائے Read More »