سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں
سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں اپنا مزاج پوچھوں ذرا گفتگو کروں سنتا نہیں ہے کوئی دلِ نامراد کی خود سے ہی اپنے دل کی کوئی آرزو کروں تنہائیوں میں چپ کا قفل توڑ دوں ذرا خود سے لگاؤں محفلیں میں اور تُو کروں ہر گام زندگی میں ضرورت کسی کی ہے […]
سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں Read More »