MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں

سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں اپنا مزاج پوچھوں ذرا گفتگو کروں سنتا نہیں ہے کوئی دلِ نامراد کی خود سے ہی اپنے دل کی کوئی آرزو کروں تنہائیوں میں چپ کا قفل توڑ دوں ذرا خود سے لگاؤں محفلیں میں اور تُو کروں ہر گام زندگی میں ضرورت کسی کی ہے […]

سوچا ہے آئنے کو کبھی رو بہ رو کروں Read More »

پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں

پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں اور کچھ فاصلےبھی رکھے ہیں روز ہوتے ہیں دو بہ دو ان سے دل تو پیہم ملے بھی رکھے ہیں چاہتوں میں کمی جو پائی کبھی درمیاں سب گلے بھی رکھے ہیں ایک دوجے کی ٹال دی ہنس کر ہم نے یہ حوصلے بھی رکھے ہیں ان سے خاور

پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں Read More »

کس قدر اختصار سے بولا

کس قدر اختصار سے بولا جب بھی بولا وہ پیار سے بولا اس کی آنکھوں سے مے چھلکتی تھی وہ بہک کر خمار سے بولا اس کا انداز دلبرانہ تھا تب ہی تو انکسار سے بولا کچھ تو مجبوریاں رہی ہونگیں ڈر کے جو انتشار سے بولا کون سمجھے گا اس کو میرے سوا اس

کس قدر اختصار سے بولا Read More »

اس کے مرے مزاج کا ملنا محال تھا

اس کے مرے مزاج کا ملنا محال تھا اک ساتھ عمر بھر جو رہے یہ کمال تھا ٹوٹا نہ روٹھ روٹھ کے ملنے کا سلسلہ اس کو بھی تھا خیال مجھے بھی خیال تھا سوچوں کے زاویے تو جدا سب ہی تھے مگر وہ پیکرِ جمال بڑا بے مثال تھا بگڑی ہوئی وہ بات بناتا

اس کے مرے مزاج کا ملنا محال تھا Read More »

مجھ سے تری زباں کا نہ طعنہ سہا گیا

مجھ سے تری زباں کا نہ طعنہ سہا گیا اتنا تو میں برا نہیں جتنا کہا گیا میں خوگرِ وفا ہی رہا تیرے پیار میں تجھ سے مگر وفا پہ نہ قائم رہا گیا رونا ہے اب یہ کیسا بھلا کیوں پکار ہے جاتے ہوئے کیوں آنکھ سے موتی بہا گیا مدت سے میری بات

مجھ سے تری زباں کا نہ طعنہ سہا گیا Read More »

درد جتنے ہیں لا دوا ٹھہرے

درد جتنے ہیں لا دوا ٹھہرے ہم برے آپ پارسا ٹھہرے کیسے جھٹلائیں گے وفا میری لاکھ یہ حسن کی ادا ٹھہرے عشق کیوں حسن کا سوالی ہے کچھ تو اس کا بھی فیصلہ ٹھہرے حسن مغرور کیوں ازل سے ہے اس پہ بھی تو کوئی سزا ٹھہرے تم کو پانا ہمارے بس میں تھا

درد جتنے ہیں لا دوا ٹھہرے Read More »

جو نہ لکھے گئے ہوں قسمت میں

جو نہ لکھے گئے ہوں قسمت میں ان کی چاہت کو عشق کہتے ہیں جن کی ہر بات جاں گسل ٹھہرے ان کی قربت کو عشق کہتے ہیں شوق رکھے جوان جزبوں کو ایسی شدت کو عشق کہتے ہیں ٹوٹنا پھوٹنا بکھر جانا ایسی حالت کو عشق کہتے ہیں سرفروشی کا عزم دل میں پلے

جو نہ لکھے گئے ہوں قسمت میں Read More »

رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے

رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے تم کو مجھ سےجدا نہ کرڈالے تیز تر ہے یہ وقت کی آندھی یہ تمہیں بے ردا نہ کر ڈالے کام لینا ذرا مروت سے کوئی ہم سے گلہ نہ کر ڈالے رابطے ہیں دعا سلام کے بس مفلسی لب کُشا نہ کر ڈالے لوگ آپس میں اب نہیں

رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے Read More »

اب تو جواب تک نہیں ملتا سلام کا

اب تو جواب تک نہیں ملتا سلام کا شاید کہ میں رہا نہیں اب ان کے کام کا سنتے تھے ایک دور کبھی وہ بھی آئے گا رہ جائے گا خلوص و وفا صرف نام کا چالاک ہوگئے ہیں کچھ احباب اس قدر رکھتے ہیں دوست چھانٹ کر اونچے مقام کا کہتے ہیں آؤ بیٹھو

اب تو جواب تک نہیں ملتا سلام کا Read More »

کوئی دردِ دل سے تڑپ اٹھا کوئی دل دکھا کے چلا گیا

کوئی دردِ دل سے تڑپ اٹھا کوئی دل دکھا کے چلا گیاپڑی تجھ پہ جس کی بھی اک نظر وہی تیر کھا کے چلا گیا ہوا یہ بھی اک بڑا حادثہ وہ ملا مجھے سرِ رہ گزرکوئی بات اس نے سنی کہاں وہ نظر ملا کے چلا گیا تھا وہ فتنہ گر بڑا تیز تر

کوئی دردِ دل سے تڑپ اٹھا کوئی دل دکھا کے چلا گیا Read More »