MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھ کو ہونا ہی اگر تھا تو مرے ربِ کریم

مجھ کو ہونا ہی اگر تھا تو مرے ربِ کریمحکمت و دانش و برہان کا مکتب ہوتامجھ کو بھی صبحِ ازل تیرے خزانے سے عطاحرفِ دانائی کی تفہیم کا منصب ہوتا مجھ کو ہونا ہی اگر تھا تو مرے ربِ کریمپرچمِ حمد مرے عجز کی چھایا ہوتامیری ہر سانس ترے نام کی مالا جپتیذکر تیرا […]

مجھ کو ہونا ہی اگر تھا تو مرے ربِ کریم Read More »

نعت کیا ہے، سرمدی جذبات کی ترسیل ہے

نعت کیا ہے، سرمدی جذبات کی ترسیل ہےنعت کیا ہے، لا اِلہ کے نور کی ترتیل ہے نعت کیا ہے، قَصرِ حسن و عشق کی تکمیل ہےنعت کیا ہے، حکمِ ربّی کی فقط تعمیل ہے رحمت و بخشش کی ارزانی ہے نعتِ مصطفےٰدیدہ و دل کی ثنا خوانی ہے نعتِ مصطفےٰ نعت کیا ہے، عشق

نعت کیا ہے، سرمدی جذبات کی ترسیل ہے Read More »

مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کا

مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کامیں نے کیا ہے کام یہی ایک کام کا پوشاکِ علم میرے قلم کو ملے حضوراور زمزمہ عطا ہو درود و سلام کا آندھی ہوائے شرکی چلی ہے مرے رسولخدشہ بہت ہے آدمی کے انہدام کا نعتِ حضور سنّتِ پروردگار کالیکن جواب کیا ہو خدا کے کلام کا جلنے

مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کا Read More »

عکس درِ رسول مری چشم تر میں ہے

عکس درِ رسول مری چشم تر میں ہےآباد آئنوں کا سمندر نظر میں ہے قدموں کی دھول سر پہ سجانے کے واسطےخوشبو چراغ لے کے ازل سے سفر میں ہے شبنم، دھنک، چنار، ہوا، چاندنی، سحابہر حُسنِ کائنات تری رہ گزر میں ہے ہر چیز رقص میں ہے جہانِ شعور کیکیفِ دوام مدحتِ خیرالبشر میں

عکس درِ رسول مری چشم تر میں ہے Read More »

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوامدحت کے پھول بن کے ہے گویا کھِلی ہوا پڑھتے رہے درود مسلسل تمام شبجگنو، لغت، گلاب، قلم، روشنی، ہوا مجرم ہوں مجھ کو اُن کی عدالت میں لے گئیمیرے لئے تو پھول سی ہے ہتھکڑی ہوا کعبہ ، حطیم ، گنبدِ خضرا، درِ رسولپھر اس کے بعد اور

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا Read More »

مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوں

مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوںخدائے روز و شب سے اور مانگوں بھی تو کیا مانگوں مدینے کے جزیرے پر مری کشتی ہے آ پہنچیخزانہ سامنے ہو تو بھلا نقشہ میں کیا مانگوں مرا مقصود کب ہے مال و دولت کی فراوانیمدینے میں سکونت کا اقامہ اے خدا مانگوں میں شہرِ علم کی دہلیز

مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوں Read More »

اب کے برس بھی کیفیت میں ڈوبا رہے قلم

اب کے برس بھی کیفیت میں ڈوبا رہے قلماب کے برس بھی وادی بطحا کے پھول دے اب کے برس بھی رتجگے نعتوں کے کر عطااب کے برس بھی اذن ثنائے رسول دے یارب ! فضائے جبر کا دامن ہو تار تارآنگن میں عافیت کی ہوائے خنک چلے یارب! حصار خوف سے نکلوں میں اس

اب کے برس بھی کیفیت میں ڈوبا رہے قلم Read More »

جو دل کا راز بے آہ و فغاں کہنا ہی پڑتا ہے

جو دل کا راز بے آہ و فغاں کہنا ہی پڑتا ہےتو پھر اپنے قفس کو آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے تجھے اے طائر شاخ نشیمن کیا خبر اس کیکبھی صیاد کو بھی باغباں کہنا ہی پڑتا ہے یہ دنیا ہے یہاں ہر کام چلتا ہے سلیقے سےیہاں پتھر کو بھی لعل گراں کہنا ہی

جو دل کا راز بے آہ و فغاں کہنا ہی پڑتا ہے Read More »

کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میں

کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میں دل ہے مرا کہ معرکہ کفر و دیں کوئیاک عمر کٹ گئی ہے جواب و سوال میں اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاسہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال

کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میں Read More »

خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہے

خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہےکہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہے تصور اس طرح آتا ہے تیرا محفل دل میںمرے ہاتھوں میں جیسے خود بہ خود پیمانہ آتا ہے خرد والو خبر بھی ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہےجنوں کی جستجو میں آپ ہی ویرانہ آتا ہے کبھی قصد حرم

خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہے Read More »