MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میں

کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میں
لیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میں

دل ہے مرا کہ معرکہ کفر و دیں کوئی
اک عمر کٹ گئی ہے جواب و سوال میں

اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس
ہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال میں

دو نام ایک کیفیت جذب دل کے ہیں
بس فرق اس قدر ہے فراق و وصال میں

آئے وہ کتنی بار نگاہوں کے روبرو
اس کے لباس میں کبھی اس کے جمال میں

جگن ناتھ آزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم