MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک چاند چمکتا سرِ رخسار مرے دوست

اک چاند چمکتا سرِ رخسار مرے دوستصحرا میں ہو جیسے گل و گلزار مرے دوست چھینے گئے سب خواب مری آنکھ سے لیکندنیا نہ ہوئی نیند سے بیدار مرے دوست وحشت کی فراوانی بکھرتی ہے سڑک پربڑھ جاتی ہے جب سانس کی رفتار مرے دوست آنکھوں کو بھی جلنے کی تمنا ہے ازل سےلازم تو […]

اک چاند چمکتا سرِ رخسار مرے دوست Read More »

ہر شخص پہ اک شعلہء گفتار کُھلے گا

ہر شخص پہ اک شعلہء گفتار کُھلے گااور اس پہ ستم یہ سرِ بازار کُھلے گا اِس پار جو اذہان پہ کُھلنے سے ہے قاصرلازم تو نہیں ہے کہ وہ اُس پار کُھلے گا دستک کی اذیت سے پریشاں نہ ہوا کردر تجھ پہ مرے یار لگاتار کُھلے گا ممکن ہے سماعت کو گھٹن چیر

ہر شخص پہ اک شعلہء گفتار کُھلے گا Read More »

خوابوں کے اک سفر کی کہانی کا دکھ مجھے

خوابوں کے اک سفر کی کہانی کا دکھ مجھےتعبیر نیند شب کی نشانی کا دکھ مجھے کچھ ہے نئے دنوں کی تسلی بھی اک سراباور کچھ گئے دنوں کی گرانی کا دکھ مجھے جلتے ہوئے خیام سے اٹھتا ہوا دھواںاس پر ستم ہے پیاس کا پانی کا دکھ مجھے ممکن ہے میں خرید ہی لوں

خوابوں کے اک سفر کی کہانی کا دکھ مجھے Read More »

میرے لب پر صدا تمام ہوئی

میرے لب پر صدا تمام ہوئیوحشتوں کی دعا تمام ہوئی لیجیے میں نے روک لیں سانسیںلیجیے اب سزا تمام ہوئی پھول رکھ دیجیے لحد پہ مریعمر ہو کر جدا تمام ہوئی زندگانی کی داستانِ عجیبتو نے جس دن کہا تمام ہوئی آ گیا بولنا انہیں تسنیمپتھروں سے وفا تمام ہوئی سیدہ تسنیم بخاری

میرے لب پر صدا تمام ہوئی Read More »

لمحاتِ حاضری کی تمنا لئے ہوئے تحریر ریاض حسین چودھری

لمحاتِ حاضری کی تمنا لئے ہوئے تحریر ریاض حسین چودھری (’’تمنائے حضوری‘‘ ریاض حسین چودھریؒ کا تیسرا نعتیہ مجموعہ ہے جسے انہوں نے بیسویں صدی کی آخری طویل نظم قرار دے کرجون 2000ء میں شائع کیا اور اکیسویں صدی کے نام منسوب کیا یہ کہہ کر کہ یہ صدی بھی میرے پیمبر ﷺ کی صدی

لمحاتِ حاضری کی تمنا لئے ہوئے تحریر ریاض حسین چودھری Read More »

غزل کاسہ بہ کف مدینے کی گلیوں میں کھڑی ہے

ریاض حسین چودھریؒ نے اپنے جہانِ فن کی شب تاب کتاب ’’غزل کاسہ بکف‘‘ کے لئے یہ تحریر لکھی جس میں ان کے شعور نعت اور نقد و نظر کے ویژن کے خد و خال نمایاں طور پر سامنے آئے۔ تحریر ریاض حسین چودھری نعت وہ صنفِ سخن ہے جو دیگر تمام اصنافِ سخن کے

غزل کاسہ بہ کف مدینے کی گلیوں میں کھڑی ہے Read More »

گردن جھکی رہے مرے بچّو! ادب ادب

گردن جھکی رہے مرے بچّو! ادب ادبذکرِ نبیؐ ہے شہر کے لوگو! ادب ادب ہاں، سرورق کتابِ ازل کا حضورؐ ہیںتاریخِ اِرتقا کے صحیفو! ادب ادب روزِ ازل سے مَیں ہوں غلامی پہ مفتخِران نسبتوں کا اے مری نسلو! ادب ادب گجرے لیے کھڑی ہو درود و سلام کےاُنؐ کی ثناء کی صدیوں پہ صدیو!

گردن جھکی رہے مرے بچّو! ادب ادب Read More »

الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیؐ کے ہیں

الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیؐ کے ہیںاوراق اور قلم مرے سب روشنی کے ہیں اشکوں سے حرف حرف کا چہرہ دُھلا ہواانداز مختلف مری نامہ بری کے ہیں ہر سمت چاند اور ستاروں کا ہے ہجوممنظر کمال آپؐ کی روشن گلی کے ہیں اللہ کے برگزیدہ رسولوں کی ذات میںاوصاف جس قدر بھی ہیں

الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیؐ کے ہیں Read More »

عطا ہوئی ہے مجھے خود سپردگی کی کتاب

عطا ہوئی ہے مجھے خود سپردگی کی کتابیہی ہے عشقِ پیمبرؐ کے روز و شب کا نصاب مجھے یقین ہے رخصت اگر صبا کو ملیضرور لائے گی میری گزارشوں کا جواب فقط یہ پھول ثناؤں کے ساتھ لایا ہےفرشتے آ کے لحد میں کریں گے میرا حساب میں جانتا ہوں مدینہ ہی میری منزل ہےہزار

عطا ہوئی ہے مجھے خود سپردگی کی کتاب Read More »

حلقۂ شعر و فن کی ہوائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی رہی

حلقۂ شعر و فن کی ہوائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی رہیمیرے لب پر مچلتی دعائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی رہی خلدِ طیبہ کے شاداب گلزار میں، میرے آقاؐ کے پر نور دربار میںسر جھکاتی ہوئی التجائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی رہی ہر افق پر ازل سے یہ تحریر ہے،

حلقۂ شعر و فن کی ہوائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی رہی Read More »