MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں

غزل نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں اے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوں دل تو حیران ہے کیوں ششدر و مضطر میں ہوں عشق کہتا ہے کہ اس پردہ کے اندر میں ہوں پیر و سلسلۂ زلف معنبر میں ہوں طوق سے عذر نہ زنجیر سے باہر میں ہوں آب روئے […]

نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں Read More »

سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا

غزل سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا پھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیا گو کہ تھی سلطنت مصر مگر آخر کار اس حکومت پہ بھی یوسف کو وطن یاد آیا رگ گل پر ہے کبھی اور کبھی غنچہ پہ نگاہ باغ میں کس کی کمر کس کا دہن یاد آیا

سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا Read More »

دل میں ترے اے نگار کیا ہے

غزل دل میں ترے اے نگار کیا ہے ہوتا نہیں ہمکنار کیا ہے آیا جو دم وہ ہے غنیمت اس زیست کا اعتبار کیا ہے ہیں سیب سے بھی وہ چھاتیاں سخت آگے ان کے انار کیا ہے دنیا کے یہ سب ڈھکوسلے ہیں تربت کیسی مزار کیا ہے طاؤس سے چھیڑ چھاڑ کیسی ہاں

دل میں ترے اے نگار کیا ہے Read More »

دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور

غزل دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور ابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اور جھومتا آتا ہے وہ بادل کا ٹکڑا ایک اور ساقیا بھر کر پلا دے جام صہبا ایک اور دن کو جو کچھ تم نے دیکھا یہ تو تھی سب دل لگی شب کو رہ جاؤ تو دکھلائیں

دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور Read More »

جا لڑی یار سے ہماری آنکھ

غزل جا لڑی یار سے ہماری آنکھ دیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھ شوخیاں بھول جائے آہوئے چیں دیکھ پائے اگر تمہاری آنکھ لاکھ انکار مے کشی سے کرو کہیں چھپتی بھی ہے خماری آنکھ ہووے گا رنج یا خوشی ہوگی کیوں پھڑکنے لگی ہماری آنکھ جانب در نگاہ حسرت ہے کس کی کرتی ہے انتظاری

جا لڑی یار سے ہماری آنکھ Read More »

شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا

غزل شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا جسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپنا یار بنتا نہیں وہ نور کا پتلا اپنا خاک میں مل گیا تسخیر کا دعویٰ اپنا میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا وصل کی رات بہت طول ہوا آخر کار

شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا Read More »

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے

غزل جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے نام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہے جان جاں تیرے سوا رشک مسیحا کون ہے مار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے یہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے چنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے Read More »

ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا

غزل ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا ترے جمال سے مہتاب کو کمال ہوا خرام ناز میں ان کو یہ کب خیال ہوا کہ دل کسی کا پسا کوئی پائمال ہوا شباب سے تری رنگت کا طرفہ حال ہوا سپید جوڑا جو پہنا بدن میں لال ہوا جو وصل یار کی تدبیر کی وصال

ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا Read More »

مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے

غزل مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے گلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے اگر ہے حسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں کف پا سے

مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے Read More »

ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں

غزل ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں تمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیں ازل سے داخل فرد شمار ہم بھی ہیں تمہارے چاہنے والوں میں یار ہم بھی ہیں ہمیشہ ہم سے کدورت رہی حسینوں کو نہ دل سے نکلے کبھی وہ غبار ہم بھی ہیں مسافروں کی تواضع سے نام

ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں Read More »