نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں
غزل نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں اے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوں دل تو حیران ہے کیوں ششدر و مضطر میں ہوں عشق کہتا ہے کہ اس پردہ کے اندر میں ہوں پیر و سلسلۂ زلف معنبر میں ہوں طوق سے عذر نہ زنجیر سے باہر میں ہوں آب روئے […]
نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں Read More »