MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب

غزل ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب جوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کب عشاق منتظر ہیں قیامت کب آئے گی بے پردہ منہ دکھائے گا وہ پردہ دار کب اک روز اپنی جان پہ ہم کھیل جائیں گے تم پوچھتے رہوگے یوں ہی بار بار کب بیکس کو کون روئے غریبوں […]

ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب Read More »

مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

غزل مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط گھبرا نہ اس قدر دل بے تاب صبر کر آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط تحریر ان کی سینہ پہ

مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط Read More »

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے

غزل آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے کالی جادو جگا رہی ہے زنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے وحشت کیا غل مچا رہی ہے لیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے مجنوں کو ہوا بتا رہی ہے زلفیں وہ پری ہلا رہی ہے دیوانوں کی شامت آ رہی ہے پامال خرام ہو چکے دفن پسنے کو بس

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے Read More »

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا

غزل ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگا نہ مڑ کر تو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر نہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہوگا میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں تمہارے در

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا Read More »

ہے یہی التجا اداسی میں

غزل ہے یہی التجا اداسی میں تو ملے بارہا اداسی میں ایک بس خود کو کھو دیا میں نے ورنہ کیا کچھ نہ تھا اداسی میں مجھ میں تھیں خامیاں تواتر سے وہ سنوارا گیا اداسی میں تجھ کو گنتے تھے ہنسنے والوں میں تو بھی دکھنے لگا اداسی میں رشک آتا ہے ایسے لوگوں

ہے یہی التجا اداسی میں Read More »

پھول ، خوشبو ، بہار کا موسم

غزل پھول ، خوشبو ، بہار کا موسم یعنی ان سے ہے پیار کا موسم وہ کلی پھول بن نہیں سکتی جو رکھے انتظار کا موسم علم کھلتا ہے ایسے لوگوں پر جو سمجھتے ہیں ہار کا موسم پھر کسی پر نہیں رکھا میں نے کوئی بھی اعتبار کا موسم آپ پھیلا رہے ہیں لوگوں

پھول ، خوشبو ، بہار کا موسم Read More »

بتاؤ زخم کُریدوں کہ زخم دھو جاؤں

غزل بتاؤ زخم کُریدوں کہ زخم دھو جاؤں تُو جیسا حُکم کرے آج ویسی ہو جاؤں وہ چاہتا ہے کہ مر کر میں اُس کی چاہت میں خیال و خواب کی اِس قبر میں سمو جاؤں وہ مُجھ کو روک رہا تھا کسی کا ہونے سے مگر یہ بول نہ پایا میں اُس کی ہو

بتاؤ زخم کُریدوں کہ زخم دھو جاؤں Read More »

آپ نے اب تک مری دریا دلی دیکھی نہیں

غزل آپ نے اب تک مری دریا دلی دیکھی نہیں آنکھ سونی پڑ گئی ہے بات بھی ہوتی نہیں تو یہ سمجھے یا نہ سمجھے بات بس! اتنی سی ہے مے کشی تو ٹھیک ہے پر دل لگی اچھی نہیں راستہ تبدیل کرنا پڑ گیا ہے اس لیے جنگ ہر میدان میں مظلوم سے ہوتی

آپ نے اب تک مری دریا دلی دیکھی نہیں Read More »

کسی کے دل کو دُکھانا کمال ہے کہ نہیں

غزل کسی کے دل کو دُکھانا کمال ہے کہ نہیں تمھیں بھی اس کا ذرا سا ملال ہے کہ نہیں ترس رہی ہیں نگاہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ تو بھی پہلے کے جیسا نڈھال ہے کہ نہیں میں دے رہی ہوں تمھاری مثال دنیا کو تمھارے پاس بھی میری مثال ہے کہ نہیں خدا

کسی کے دل کو دُکھانا کمال ہے کہ نہیں Read More »

اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے

غزل اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے بتاؤ دل سے نکالا ہوا کدھر جائے؟ شفا کا ہاتھ رکھو دل پہ میرے آہستہ ترا مریض کہیں درد سے نہ مر جائے میں چاہتی ہوں اسے پھر کوئی محبت ہو میں اس کو یاد کروں وہ جہاں جدھر جائے میں اس کے غم کو سمیٹوں

اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے Read More »