MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا رب

غزل ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا رب دلوں کو عشق و وفا کا جلال دے یا رب ہے میرے ذہن رسا میں جو اک تصور حق مرا قلم اسی سانچے میں ڈھال دے یا رب زباں سے بات جو نکلے ہمیشہ حق نکلے لسان صدق کو حسن مقال دے یا رب اس […]

ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا رب Read More »

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

غزل بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا فریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیا مرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا تمہاری چشم سخن در سخن کا ساتھ دیا تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا بہار آئی

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا Read More »

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں

غزل سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں گھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیں شمع جلتی رہی رات ڈھلتی رہی نبض بیمار رک رک کے چلتی رہی آ کے دم بھر کے مہماں کو اب دیکھ لو اس کے بچنے کا

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں Read More »

یاد آئی وہ زلف پریشاں

غزل یاد آئی وہ زلف پریشاں کٹ جائے گی اب شب ہجراں میرے بعد اے جلوۂ جاناں کون کرے گا دعوت مژگاں تیرا گلہ کیا گیسوئے جاناں میں بھی پریشاں تو بھی پریشاں کس نے دیکھا زخم گلوں کا کرتے رہے سب سیر گلستاں دیکھ قفس میں آگ لگی ہے ابر بہاراں ابر بہاراں اپنی

یاد آئی وہ زلف پریشاں Read More »

رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا

غزل رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا کیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگا راہ میں جن سے تھا سایہ وہ شجر سوکھ گئے اب خدا جانے کہاں اپنا بسیرا ہوگا ناشناسان محبت سے توقع ہے فضول جو خود اپنا نہ ہوا کس طرح میرا ہوگا ہم نشینو شب فرقت کو غنیمت

رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا Read More »

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

غزل ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں یہ سایہ نشینان گزر گاہ تمنا کچھ عشق کے کچھ عقل کے بہکائے ہوئے ہیں اب ان کو نئی صبح کے پیغام سنا دو جو تیرگی وقت سے گھبرائے ہوئے ہیں مے چھلکے گی مے ابلے گی مے

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں Read More »

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

غزل تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر وہ ذوق فن ہو کہ شاخ چمن کہ خاک وطن ہر اک کا حق ہے مرے

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر Read More »

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے

غزل نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے طلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہے خدا ہی جانے یہ دل کب خدا کا گھر ہوگا ابھی تو اس میں بتان ہوس کا ڈیرا ہے ابھی نہ دے مجھے آواز اے غم جاناں ابھی تو شہر وفا میں بڑا اندھیرا ہے نہ سائبان نہ آنگن

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے Read More »

عافیت شہر میں بے نام و نشاں ہو جیسے

غزل عافیت شہر میں بے نام و نشاں ہو جیسے رنگ گلیوں کا ہے ایسا کہ دھواں ہو جیسے جانے کیوں شہر کی دیواروں پہ آتا ہے نظر اک نشاں ایسا کہ ماتم کا نشاں ہو جیسے تختہِ دار کے اطراف ہے لوگوں کا ہجوم اب تو لے دے کے یہی جائے اماں ہو جیسے

عافیت شہر میں بے نام و نشاں ہو جیسے Read More »

دیدہِ وقت نے نادیدہ مناظر دیکھے

غزل دیدہِ وقت نے نادیدہ مناظر دیکھے تب کہیں جاکے پسِ پردہ عناصر دیکھے وہ فضا آگ کو گلزار بنا دیتی ہے خیمہِ حرف میں جو دیدہِ شاعر دیکھے جو زمانے کسی شاعر نے نہ دیکھے اب تک میں نے اے جانِ غزل تیری ہی خاطر دیکھے میں نے اک ایسے سفر میں جو ہوا

دیدہِ وقت نے نادیدہ مناظر دیکھے Read More »