MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل میں ترے اے نگار کیا ہے

غزل

دل میں ترے اے نگار کیا ہے
ہوتا نہیں ہمکنار کیا ہے

آیا جو دم وہ ہے غنیمت
اس زیست کا اعتبار کیا ہے

ہیں سیب سے بھی وہ چھاتیاں سخت
آگے ان کے انار کیا ہے

دنیا کے یہ سب ڈھکوسلے ہیں
تربت کیسی مزار کیا ہے

طاؤس سے چھیڑ چھاڑ کیسی
ہاں اے دل داغدار کیا ہے

جو جو وہ رنج دیں اٹھاؤ
جب دل ہی دیا تو عار کیا ہے

میں چاہتا ہوں اسے نہ چاہوں
دل پر مرا اختیار کیا ہے

مژگاں کا ہے میرے دل میں کھٹکا
اے خوشبوئے نوک خار کیا ہے

مٹی مری خاک میں ملائی
مجھ سے ان کو غبار کیا ہے

دوڑوں تو مجھے صبا نہ پائے
پیدل کیسا سوار کیا ہے

بوسہ کی طلب کہ وصل کا ذکر
فرمائیے ناگوار کیا ہے

ہے کیا آغاؔ تڑپ رہا ہے
کیوں کہتے ہو بار بار کیا ہے

آغا اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم