MOJ E SUKHAN

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم
شاید اسی صورت ہی سکوں پائے مرا جسم

آغوش میں لے کر مجھے اس زور سے بھینچو!
شیشے کی طرح چھن سے چٹخ جائے مرا جسم

یا دعویٔ مہتاب تجلی نہ کرے وہ
یا نور کی کرنوں سے وہ نہلائے مرا جسم

کس شہر طلسمات میں لے آیا تخیل
جس سمت نظر جائے نظر آئے مرا جسم

آئینے کی صورت میں مری ذات کے دو رخ
جاں محو فغاں ہے تو غزل گائے مرا جسم

تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھ سائے مرا جسم

تنویر سپرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم