MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں افسوس عبادت نہ تری ہو سکی ہم سےگردن نہیں اٹھتی ہے کہ شرمائے ہوئے ہیں الزام نہیں طور جو سرمہ ہوا جل کرموسیٰ بھی تجلی سے تو شرمائے ہوئے ہیں میں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھاپایا نہیں اس […]

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں Read More »

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرح تیر مژہ ہو یار کا اور نشانہ دل مراتیر پہ تیر تا بہ کے کیجے حذر کسی طرح نالہ ہو یا کہ آہ ہو شام ہو یا پگاہ ہودل میں بتوں کے ہائے ہائے کیجے اثر

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح Read More »

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیں ملتی تری وفا کی مجھے داد بھی نہیںمجنوں نہیں ہے دہر میں فرہاد بھی نہیں کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزاانصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں انساں کی قدر کیا ہے جو ہو تیرے

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں Read More »

ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

ہو چکا وعظ کا اثر واعظاب تو رندوں سے در گزر واعظ صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرارہے ہمیں پہلے درد سر واعظ بزم رنداں میں ہو اگر شاملپھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ وعظ اپنا یہ بھول جائے توآوے گر یار سیم بر واعظ ہے یہ مرغ سحر سے بھی فائقصبح اٹھتا

ہو چکا وعظ کا اثر واعظ Read More »

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہےحسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہے خوں ہے وہ جس سے کہ ہو دامن قاتل رنگیںخون فاسد ہے جو خالی سر مژگاں میں رہے ہم نے مصنوع سے صانع کی حقیقت پائیبے سبب ہم نہیں نظارۂ خوباں میں رہے صبح خورشید کو دیکھا ہوس عارض

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے Read More »

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہےکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہے تیرے کوچے میں ہے قاتل رقص گاہ عاشقاںکوئی غلطاں سر بکف کوئی کفن میں مست ہے میکدے میں بادہ کش بت خانے میں ہیں بت پرستجو ہے عالم میں وہ اپنی انجمن میں مست ہے نکہت

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے Read More »

کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبث

کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبثعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبث نکہت گیسوئے خوباں نے کیا بے قدر اسےاب ہے سودا نافۂ تاتار کا فعل عبث رشتۂ الفت رگ جاں میں بتوں کا پڑ گیااب بظاہر شغل ہے زنار کا فعل عبث آرزو مند شہادت عاشق صادق ہوئےغیر کو

کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبث Read More »

کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند

کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بند نہیں ہیں تیرے دام زلف میں دللٹکتے ہیں ہزاروں مرغ پر بند نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوفہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند رقیبوں سے ہوئی ہے بزم خالیکرو دروازہ بے خوف و خطر بند تماشا بند آنکھوں میں

کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند Read More »

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہےجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے عاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہےمعشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے عالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابدمستی بلا کی بادۂ ”قالو بلیٰ” میں ہے ایماں ہے عکس رخ تو

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے Read More »

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خط دیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھےہوا تاثیر میں کیا کہربا خط وہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارادیا قاصد نے جب جا کر مرا خط ہے لازم حال خیریت کا لکھناکبھی تو بھیج او نا آشنا خط رہا ممنون

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط Read More »