MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں

غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں
آباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیں

ملتی تری وفا کی مجھے داد بھی نہیں
مجنوں نہیں ہے دہر میں فرہاد بھی نہیں

کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا
انصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں

انساں کی قدر کیا ہے جو ہو تیرے روبرو
تیرے مقابلے میں پری زاد بھی نہیں

افسوس کس سے یار کی کھنچوائیے شبیہ
مانیؔ نہیں جہاں میں ہے بہزادؔ بھی نہیں

کرتا ہے عذر جور و جفا یار تو عبث
ہونا جو تھا ہوا وہ ہمیں یاد بھی نہیں

کشتہ ہوا ہوں ابروئے خم دار یار کا
میرے لیے ضرورت جلاد بھی نہیں

حسرت بھرے ہوئے گئے دنیا سے سیکڑوں
تصدیق کس سے کیجئے شداد بھی نہیں

بہرامؔ میرے زور طبیعت سے ہے سخن
شاگرد میں نہیں ہوں تو استاد بھی نہیں

بہرام جی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم