MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے جو آستیں کے سانپ تھے وہ اب یہاں نہیں رہے اور ایک دن ہم آپ کی یہ دنیا چھوڑ جائیں گے خبر ملے گی آپ کو کہ ہم یہاں نہیں رہے بہت دنوں کی بات ہے یہیں کہیں پہ زخم تھے یہ دیکھ کر خوشی […]

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے Read More »

بارِ دگر ! ہم اہلِ ہُنر سوچتے نہیں

بارِ دگر ! ہم اہلِ ہُنر سوچتے نہیں چھاؤں لٹاتے وقت شجر سوچتے نہیں یہ زندگی کے مَسئلے تو سَاتھ سَاتھ ہیں آ بیٹھ میکدے میں جِگر ! سوچتے نہیں کیسے کہاں سے ہم کو یہ گردِسفر مِلی کچھ سوچنا تو چاہیے! پر سوچتے نہیں ہم جیسے لوگ عشق میں بس جھومتے ہیں دوست بس

بارِ دگر ! ہم اہلِ ہُنر سوچتے نہیں Read More »

ہَوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے

ہَوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے میں خُوش گُمانی میں مُبتلا تھا تری طرف سے عجَب سی حَالت ہے آج دل کی ! معاف کرنا اگر کِسی کا بھی دِل دُکھا ہو مِری طرف سے تُجھے پتہ ہے؟صَدائیں آتی ہیں مُجھ کو شب بھر تو جِس جگہ پر جُدا ﮨُوا تھا ،

ہَوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے Read More »

میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا؟

میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا؟ بغیر تیرے میں زندگانی کا کیا کروں گا ؟ تری مُحبت کی ہی ضرورت ہے آج مجھ کو !! میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا؟ وہ بے دلی ہے کہ کوئی خواہش نہ کوئی ارماں میں سوچتا ہُوں کہ اِس جوانی کا

میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا؟ Read More »

اُونچی جگہ سے گِر کر میں بے نشان ٹوٹا

اُونچی جگہ سے گِر کر میں بے نشان ٹوٹا تیرے بھی ہاتھ خالی ,میرا بھی مان ٹوٹا اک کہکشاں تھی مجھ میں قوسِ قزح تھی ہر سُو پھر سر پہ آکے میرے اِک آسمان ٹوٹا خستہ دلی کا دُکھ بھی اپنی جگہ ہے لیکن بستی میں سب سے پہلے میرا مکان ٹوٹا پہلے میں سوچتا

اُونچی جگہ سے گِر کر میں بے نشان ٹوٹا Read More »

اچھا تو ہے مگر ہمیں اچھا نہیں لگا

اچھا تو ہے مگر ہمیں اچھا نہیں لگا یہ شہر جس میں کوئی بھی اپنا نہیں لگا بیٹھے ہوئے ہیں خاک پہ خلوت کی چھاؤں میں صحرا بھی میرے جیسوں کو صحرا نہیں لگا اپنی جہاں پہنچ تھی وہاں تک پہنچ گئے یہ اور بات ہے ابھی کتبہ نہیں لگا مرنے کے انتظار میں بیٹھے

اچھا تو ہے مگر ہمیں اچھا نہیں لگا Read More »

باتوں سے تیری بات کا پہلو نکل پڑے

باتوں سے تیری بات کا پہلو نکل پڑے جیسے کسی بھی پُھول سے خوشبو نکل پڑے دُنیا کے کام کاج سے فرصت ملی تو پھر بستر سے تیری یاد کے بچّھو نکل پڑے دن بَھر تمام پنچھی تجھے ڈھونڈھتے رہے شَب کو تری تلاش میں جگنو نکل پڑے ایسا شدید وجد کہ مت پُوچھیے حضُور

باتوں سے تیری بات کا پہلو نکل پڑے Read More »

کہاں گئی وہ روشنی , وہ رتجگے کہاں گئے؟

کہاں گئی وہ روشنی , وہ رتجگے کہاں گئے؟ چراغ جانے کیا ہوئے ؟ وہ طاقچے کہاں گئے؟ زمین اُن کو کھا گئی کہ آسماں نگل گیا؟ جو ہارتے کبھی نہ تھے وہ ہار کے کہاں گئے؟ ہمیں تو کچھ خبر نہیں کہ ہم کہاں ہیں آجکل؟ ہمیں تو ہوش بھی نہیں کہ آبلے کہاں

کہاں گئی وہ روشنی , وہ رتجگے کہاں گئے؟ Read More »

سرد موسم میں ہَوا تو نہیں مانگی جاتی

سرد موسم میں ہَوا تو نہیں مانگی جاتیچھت ٹپکنے پہ گھٹا تو نہیں مانگی جاتی تُو کسی اور کے کالر میں سجا پھول ہے دوستتجھ کو پانے کی دعا تو نہیں مانگی جاتی جس کی عریانی چھپائی ہو اندھیری شب نےکیا کرے وہ کہ ضیا تو نہیں مانگی جاتی اس محبت میں تجارت نہیں ہوتی

سرد موسم میں ہَوا تو نہیں مانگی جاتی Read More »

کچا پھل تھا اونچی شاخ

کچا پھل تھا اونچی شاخکیسے ہاتھ میں آتی شاخ آخر ایندھن بنتی ہےبوڑھے پیڑ کی سوکھی شاخ جب صیاد نے وار کیادونوں تڑپے ، پنچھی ، شاخ پتے شور مچاتے ہیںکس گلچیں نے پکڑی شاخ کلیاں کھلنے والی تھیںبے دردی نے کاٹی شاخ اس کے ہاتھ کا لمس ملاسوکھے پیڑ سے پھوٹی شاخ اُس بن

کچا پھل تھا اونچی شاخ Read More »