بِھیڑ لگی تھی آوازوں کی جب تک ہم خاموش رہے
دیکھ رہے تھے بیٹھ کے سب کا ناٹک ہم خاموش رہے
آج کسی کی یاد میں ہم محروم رہے گویائی سے
گھر سے لے کر دفتر تک ,پھر گھر تک ہم خاموش رہے
مُدّت بعد پُکارا اُس نے حیرت تو اِس بات کی ہے
ایک دفعہ تو دل بھی دھڑکا ,دَھک دَھک ! ہم خاموش رہے
جان کے ہم نے غفلت بَرتی اپنے گھر کی حالت سے
دھیرے دھیرے سب کچھ کھا گئی دیمک ہم خاموش رہے
شام کے سائے ڈھلتے ہی ہم بیٹھ گئے میخانے میں
اپنے اندر آگ انڈیلی شب تک ہم خاموش رہے
ایک صدا تو شہر سے آئی, ایک صدا ویرانے سے
ایک صدا درویش کی آئی, “بالک “! ہم خاموش رہے
موج میں رہنے والے تھے سو ہم نے کس کی سُننی تھی
دُنیا نے تو خوب کری تھی بک بک , ہم خاموش رہے
فیصل محمود