باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیں
باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیںدشتِ خیالِ یار میں رستہ تو ہے نہیں دکھ میں بھی پھوٹ پھوٹ کے ہنستا ہوں زار و زارجس سے لپٹ کے رو سکوں کاندھا تو ہے نہیں اُجڑے ہوئے دیار کے منظر کو کیا کہوںچھوڑا تھا جس طرح اسے ویسا تو ہے نہیں ہونٹوں سے کس […]
باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیں Read More »