MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیں

باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیںدشتِ خیالِ یار میں رستہ تو ہے نہیں دکھ میں بھی پھوٹ پھوٹ کے ہنستا ہوں زار و زارجس سے لپٹ کے رو سکوں کاندھا تو ہے نہیں اُجڑے ہوئے دیار کے منظر کو کیا کہوںچھوڑا تھا جس طرح اسے ویسا تو ہے نہیں ہونٹوں سے کس […]

باہر نکل کے اس لیے جانا تو ہے نہیں Read More »

دھک دھک دھک دھک تھی آواز

دھک دھک دھک دھک تھی آوازدل نے تجھ کو دی آواز کانوں میں رس گھولتی ہےتیری کوئل سی آواز ہونٹوں کی چُپ ٹوٹ گئیآنکھوں نے جب دی آواز تبدیلی اب آنے دوہے یہ خلقت کی آواز پہلے بھی تو گونجی تھیبالکل ایسی ہی آواز مجھ کو میرا وہم لگااس نے بھی سن لی آواز اک

دھک دھک دھک دھک تھی آواز Read More »

گوگل پہ اُس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیں

گوگل پہ اُس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیںرستہ بھی میں نے ٹھیک سے پوچھا تو ہے نہیں تم کہہ رہے ہو لوٹ کے آیا ہوا ہے وہکھڑ کی سے ایک بار بھی جھانکا تو ہے نہیں گردان آؤ آؤ کی کرتا رہا ہوں میںپنچھی مری مُنڈیر پہ اُترا تو ہے نہیں اب کس

گوگل پہ اُس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیں Read More »

جاں بلب تھا غضب کی پیاس سے میں

جاں بلب تھا غضب کی پیاس سے میںسیر ہوتا بھی کیا گلاس سے میں اُس کی خوشبو لپٹ گئی مجھ سےآج گزرا تھا اُس کے پاس سے میں ریل کی آخری بجی سیٹیاور اُلجھا رہا حواس سے میں مجھ کو گندم کا بوجھ ڈھونا تھاسوت لیتا بھی کیا کپاس سے میں جسم چھلنی ہوا ہے

جاں بلب تھا غضب کی پیاس سے میں Read More »

تیرے سنگ تھا موج میلہ اک برس

تیرے سنگ تھا موج میلہ اک برساب گزاروں گا اکیلا ، اک برس زندگانی دیکھ میرا حوصلہتجھ کو میں نے اور جھیلا اک برس وقت کی پونجی بچاتا کس طرحہاتھ میں آیا نہ دھیلا اک برس جانے کس جانب بہا کر لے گیاتیری یادوں کا وہ ریلا ، اک برس اُس نے بھی آنکھیں بدل

تیرے سنگ تھا موج میلہ اک برس Read More »

زر پرستوں کے طرف دار نہیں بن سکتے

زر پرستوں کے طرف دار نہیں بن سکتےلاکھ چاہئیں بھی تو ہم یار ، نہیں بن سکتے جائیے جا کے نگینوں کو پرکھنا سیکھیںآپ یوسف کے خریدار نہیں بن سکتے منزلیں دور سہی راستے پُر پیچ تو کیامسئلے راہ کی دیوار نہیں بن سکتے یار سوچو کہ محبت میں کمایا کیا ہےہم جو دو سے

زر پرستوں کے طرف دار نہیں بن سکتے Read More »

عجیب طرز کی آفت نے آ لیا ہے ہمیں

عجیب طرز کی آفت نے آ لیا ہے ہمیںپیاسے لوگ تھے پانی نے کھا لیا ہے ہمیں مدد کے واسطے آئے ہیں سلفیوں والےکہ اک طرح سے تماشا بنا لیا ہے ہمیں ہمارے نام پہ بھرنے ہیں پیٹ بھوکوں کےاسی لیے ہی تو سر پر اٹھا لیا ہے ہمیں کسی کی یاد کے سیلِ رواں

عجیب طرز کی آفت نے آ لیا ہے ہمیں Read More »

نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میں

نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میںسپولے مار ہی دوں گا یہ آستین کے میں تمہاری بے رخی مجھ سے سہی نہیں جاتیوگرنہ طنز بھی سہتا ہوں حاسدین کے میں وہ اختلاف کا حق جو مجھے نہیں دیتےکبھی قصیدے نہ لکھوں گا حاکمین کے میں جو ہو سکے مری آنکھیں کسی کو دے دینایہ بات

نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میں Read More »

چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے

چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہےکہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے جو مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں انہیں بتاؤکہ میرا کُرتہ تو پیٹھ پر سے پھٹا ہوا ہے میں اس کو منزل پہ لے کے جانے کا سوچتا ہوںوہ کارواں جو کہ اپنی رہ سے ہٹا ہوا ہے

چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے Read More »

زندگی

کیسے سمجھاتے اسے کہ خواہشیںصورتِ کچا گھڑا ہیںناقہء لیلیٰ ہیںمجنوں کی قبا ہیںجھنگ کا بیلا ہیںگہری نیند ٹوٹے تیر ہیںکیچ اور بھمبھور تک پھیلے ہوئے صحرا پہ قدموں کی نشاں ہیںحاصل و لاحاصلی کے درمیاںاک ادھورا خواب ہیںاور زندگییہ خواب آنکھوں میں سجائےشام کی پلکوں پہ لکھیایک ان دیکھے سفر کی کچھ کہی کچھ ان

زندگی Read More »