MOJ E SUKHAN

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے
جو آستیں کے سانپ تھے وہ اب یہاں نہیں رہے

اور ایک دن ہم آپ کی یہ دنیا چھوڑ جائیں گے
خبر ملے گی آپ کو کہ ہم یہاں نہیں رہے

بہت دنوں کی بات ہے یہیں کہیں پہ زخم تھے
یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اب نشاں نہیں رہے

نہ پہلے جیسی سرکشی ، نہ دل میں کوئ خواہشیں
کبھی کبھی لگے ہمیں کہ ہم جواں نہیں رہے

نکل کے تیرے دل سے ہم جو لا مکاں میں کھو گئے
تو سوچ کر ذرا بتا کہ اب کہاں نہیں رہے

فیصل محمود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم