MOJ E SUKHAN

چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے

چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے
کہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے

جو مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں انہیں بتاؤ
کہ میرا کُرتہ تو پیٹھ پر سے پھٹا ہوا ہے

میں اس کو منزل پہ لے کے جانے کا سوچتا ہوں
وہ کارواں جو کہ اپنی رہ سے ہٹا ہوا ہے

وہ چاہتے ہیں کہ ان کو دستار سونپ دیں ہم
وہ جن کے شانوں سے سر تو پہلے کٹا ہوا ہے

تمہاری چالوں سے ہار جانے کا غم نہیں ہے
تمہارے طعنوں سے دل ہمارا پھٹا ہوا ہے

غبار سورج کو ڈھانپ لے گا تو کیا کرو گے
یہ گرد روکو کہ جس سے منظر اٹا ہوا ہے

ہمارے اپنے عدو کی صف میں کھڑے ہیں ارشد
ہمارا لشکر یوں وسوسوں میں بٹا ہوا ہے

ارشد محمود ارشد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم