چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے
کہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے
جو مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں انہیں بتاؤ
کہ میرا کُرتہ تو پیٹھ پر سے پھٹا ہوا ہے
میں اس کو منزل پہ لے کے جانے کا سوچتا ہوں
وہ کارواں جو کہ اپنی رہ سے ہٹا ہوا ہے
وہ چاہتے ہیں کہ ان کو دستار سونپ دیں ہم
وہ جن کے شانوں سے سر تو پہلے کٹا ہوا ہے
تمہاری چالوں سے ہار جانے کا غم نہیں ہے
تمہارے طعنوں سے دل ہمارا پھٹا ہوا ہے
غبار سورج کو ڈھانپ لے گا تو کیا کرو گے
یہ گرد روکو کہ جس سے منظر اٹا ہوا ہے
ہمارے اپنے عدو کی صف میں کھڑے ہیں ارشد
ہمارا لشکر یوں وسوسوں میں بٹا ہوا ہے
ارشد محمود ارشد