MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل میرا اس گماں میں رہتا ہے

دل میرا اس گماں میں رہتا ہے تو میرے جسم و جاں میں رہتا ہے دل کی دستک بھی کاش سن لیتا وہ جو دل کے مکاں میں رہتا ہے زندگی چل کسی کی ہو جا تو ذکر تیرا جہاں میں رہتا ہے پاس رہ کے بھی دور ہے مجھ سے جانے کس کے دھیاں […]

دل میرا اس گماں میں رہتا ہے Read More »

اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا

اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا خواب اس میں سجا ہوا بھیجا میں نے پوچھا کہ زندگی کیا ہے اس نے الفت کا واقعہ بھیجا تیرے غم کو ، ترے تصور کو آنسوؤں میں دهلا ہوا بھیجا چوڑیاں ، پھول ، رنگ اور خوشبو اس نے کیا کیا سجا سجا بهیجا میں تو آنکھوں میں ڈوب

اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا Read More »

خواب سا تھا سجا ہوا جیسے

خواب سا تھا سجا ہوا جیسے سامنے تھا دیا جلا جیسے ما تمی تھا وفور اشکوں کا کوئ آنکھوں میں تھا مرا جیسے آنکھوں آنکھوں میں کہہ رہا تھا کیا ایک انداز تھا نیا جیسے دشت میں تھا یہ میرا پہلا قدم عشق بھی تھا کوئ خلا جیسے ایک امید تھی جو باقی تھی رکھ

خواب سا تھا سجا ہوا جیسے Read More »

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاںپاؤں شل ہیں مگر بے بسی ہے کہاں لمس دشت بلا کی ہی سوغات ہےمرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں خاک میں خاک ہوں بے مکاں بے نشاںمیرا ملبوس تن خسروی ہے کہاں میرا سوز دروں مائل لطف ہومجھ میں شعلہ فشاں وہ نمی ہے کہاں پھونک

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں Read More »

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپہر اختیار چپ ہے ہر اک اعتبار چپ باد سموم درپئے آزار دیکھ کرسکتے میں بے قرار ہے باد بہار چپ منظر نہیں ہیں بولتے صحرا اداس ہےپتھرا گئی ہے آنکھ دل داغ دار چپ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ مقسوم تو نہیںبس تجھ کو کھا گئی

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ Read More »

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھےپھر ترے ہاتھ سے ہر چاک سلانا ہے مجھے باندھ رکھے ہیں مرے پاؤں میں گھنگرو کس نےاپنی سر تال پہ اب کس نے نچانا ہے مجھے رات بھر دیکھتا آیا ہوں چراغوں کا دھواںصبح عاشور سے اب آنکھ ملانا ہے مجھے ہاتھ اٹھے نہ کوئی اب

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے Read More »

مری خاک میں ولا کا نہ کوئی شرار ہوتا

مری خاک میں ولا کا نہ کوئی شرار ہوتانہ ہی دل سے آگ اٹھتی نہ یہ بے قرار ہوتا مرے سر پہ ہاتھ رکھنا جو ترا شعار ہوتامیں نہ در بدر بھٹکتا کہیں آر پار ہوتا میں رہین قلب مضطر تو چراغ شادمانیتری محفل طرب میں کہاں دل فگار ہوتا تری بے خودی نے اے

مری خاک میں ولا کا نہ کوئی شرار ہوتا Read More »

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نہ رکھ

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نہ رکھصدا و صوت کی اندھی قیود میں نہ رکھ میں تیرے حرف دعا سے بھی ماورا ہوں میاںمجھے تو اپنے سلام و درود میں نہ رکھ کلیم وقت کے در کو جبیں ترستی ہےامیر شہر کے بیکل سجود میں نہ رکھ نظام قیصر و کسری کی میں

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نہ رکھ Read More »

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہےاور تجھے یہ حالت زندہ رکھتی ہے ڈھو ڈھو کر ہر روز جسے تھک جاتا ہوںاس ساماں کی سنگت زندہ رکھتی ہے سورج نے تیزاب ہے چھڑکا شاخوں پرگلشن کو کیا رنگت زندہ رکھتی ہے چڑھتے سورج کی میں پوجا کرتا ہوںیار یہی اک خصلت زندہ رکھتی ہے چوم

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے Read More »

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوںدر و دیوار پر کچھ عکس نا دیدہ سجاتا ہوں مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے ابخرابات چمن میں لالہ و سوسن اگاتا ہوں مرے اس شوق سے دریا کنارے سب شناسا ہیںجہاں طوفاں ہو موجوں کا وہاں لنگر اٹھاتا ہوں تمہاری نغمہ‌ سنجی کی دکاں

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں Read More »