MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہو

وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہویہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہو ہم لیں بلائیں زلف کی وہ رات بھی تو ہوآئے مزے کی رت کہیں برسات بھی تو ہو گزرے یوں ہی تو توبہ کے دن اب سوا پیوںساقی ذرا تلافئ مافات بھی تو ہو […]

وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہو Read More »

اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا

اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لاطاق حرم سے شیخ وہ بوتل اٹھا تو لا لیلیٰ کے دل میں قیس نکل آئے گی جگہتو سر پر آج نجد کا جنگل اٹھا تو لا دھونا ہے داغ جامۂ احرام صبح صبححجرے سے شیخ پانی کی چھاگل اٹھا تو لا مجھ کو بھی انتظار تھا

اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا Read More »

وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں

وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوںیوں ہی پردہ سا کچھ حائل ہو ہم ہوں ستائیں ہم اسی طرح جس طرح چاہیںکوئی نشہ میں یوں غافل ہو ہم ہوں تمہارا بام رشک آسماں ہواگر تم ہو مہ کامل ہو ہم ہوں مزا خلوت کا آئے قتل گہہ میںوہاں کوئی نہ ہو قاتل

وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں Read More »

ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے

ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلےنہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلے یہ دوستی ہے کہ ہے ساتھ آگ پانی کاجو نکلی آہ تو ساتھ اشک بھی نکل کے چلے لحد سے لائی قیامت ہے پاؤں پڑ پڑ کرٹھہر ٹھہر کے چلے ہم مچل مچل کے چلے ہزاروں

ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے Read More »

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا جلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھا لگی آگ میرے جگر میں یوں نہ لگے کسی کے بھی گھر میں یوں نہ تو لو اٹھی نہ چمک ہوئی نہ شرر اڑے نہ دھواں اٹھا کوئی مست مے کدہ

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا Read More »

یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں

یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیںہمارے ہی سب بل نکالے ہوئے ہیں تبسم فزا میرے نالے ہوئے ہیںذرا شوخ اب شرم والے ہوئے ہیں مرے ہاتھ پر کھیلے ہیں افعی زلفیہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں نہیں ہم کو لغزش کا ڈر میکدے میںکہ دو دو فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں الجھتے ہیں

یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں Read More »

زندگی تو کٹ گئ

زندگی تو کٹ گئ خواہشوں میں بٹ گئ یاد جیسی تھی گھٹا رات غم کی چَھٹ گئ خواب کی تصویر تھی جو آنکھ میں سمٹ گئ سب لکیریں مٹ گئیں اور میں تم سے کٹ گئ محبتوں کی اک نگاہ پڑی نظر پلٹ گئی وہی تھی زندگی حسیں جو ساتھ ساتھ کٹ گئی کیوں ترنم

زندگی تو کٹ گئ Read More »

پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا

پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا آؤ ہم بناتے ہیں اک مکان شیشے کا میرے حوصلے دیکھو زندگی برتنے کو سر پہ اوڑھ رکھا ہے آسمان شیشے کا کیسے جھیل پائیں ہم درد کے سمندر کو گر لگا ہو کشتی میں باد بان شیشے کا ہر قدم پہ مشکل ہے ہجر کے مسافر کو

پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا Read More »

چاندنی کی رات ہو یا دھند میں لپٹی سحر

چاندنی کی رات ہو یا دھند میں لپٹی سحر بس اسی کو سوچنا ، ہاں سوچنا اچھا لگا پھر کسی کی یاد میں خوشبو کی چادراوڑھ لی پھر کسی کے دھیان میں یوں جھومنا اچھا لگا رات ،آتش دان ، بارش ،اور بجتی کھڑکیاں سنگ تیرے گرم کافی ، ،ذائقہ اچھا لگا عمر بھر صحرا

چاندنی کی رات ہو یا دھند میں لپٹی سحر Read More »

وہ جو خاموش ہے سہما ہوا لگتا ہے مجھے

وہ جو خاموش ہے سہما ہوا لگتا ہے مجھے جانے کیا بات ہے بدلا ہو لگتا ہے مجھے چھوڑ کے سب کو میرے پاس وہ آ بیٹھا مگر پیار کرتے ہوۓ ڈرتا ہوا لگتا ہے مجھے اُس کی سانسوں میں تپش ہے نا حرارت کوئ پھر بھی اک آگ میں جلتا ہؤا لگتا ہے مجھے

وہ جو خاموش ہے سہما ہوا لگتا ہے مجھے Read More »