صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں
صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میںلگتا ہے پہلے جرم کو دہرا رہا ہوں میں پر ہول وادیوں کا سفر ہے بہت کٹھنلے جا رہا ہے شوق چلا جا رہا ہوں میں خالی ہیں دونوں ہاتھ اور دامن بھی تار تارکیوں ایک مشت خاک پہ اترا رہا ہوں میں شوق وصال یار […]
صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں Read More »