MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں

صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میںلگتا ہے پہلے جرم کو دہرا رہا ہوں میں پر ہول وادیوں کا سفر ہے بہت کٹھنلے جا رہا ہے شوق چلا جا رہا ہوں میں خالی ہیں دونوں ہاتھ اور دامن بھی تار تارکیوں ایک مشت خاک پہ اترا رہا ہوں میں شوق وصال یار […]

صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں Read More »

شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے

شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہےمرا جنون ہواؤں پہ چل بھی سکتا ہے مرے گماں پہ اٹھاؤ نہ انگلیاں صاحبگماں یقیں میں یقیناً بدل بھی سکتا ہے پہاڑ اپنی قدامت پہ یوں نہ اترائیںابھر گیا کوئی ذرہ نگل بھی سکتا ہے مرے لبوں پہ جمی برف سوچ کر چھوناتمہارے جسم کا آہن

شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے Read More »

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گےزیب قرطاس فقط یاس کے ہالے ہوں گے کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیےآ چراغوں میں لہو ڈال اجالے ہوں گے دشت میں جا کے ذرا دیکھ تو آئے کوئیذرے ذرے نے مرے اشک سنبھالے ہوں گے یوں تو مقدور نہیں تجھ کو تری قسمت پرہاں

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے Read More »

رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہے

رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہےکیا وہیں خلق جہاں کار_ زیاں پھینکتی ہے گھر کا آنگن کوئ مدفن تو بہاروں کا نہیںزرد پتے یہاں کیوں لا کے خزاں پھینکتی ہے اک سمندر ہے جہاں سیپ پنپتے ہی نہیںآستیں پونچھے ہوئے اشک وہاں پھینکتی ہے خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیاموت لیکن لب

رائیگانی تو مرے خواب کہاں پھینکتی ہے Read More »

تھے مہربان سائے مگر میں نہیں گیا

تھے مہربان سائے مگر میں نہیں گیامجھ کو پکارتے تھے شجر، میں نہیں گیا جاتا بھی کس لیے درِ نخوت پناہ پرپہنچا ضرور طشت میں سر، میں نہیں گیا جس پر میں چلنا چاہتا تھا سر کے بل کبھیپاؤں پڑی وہ راہ گزر، میں نہیں گیا پہنچا چہار سمت میں اپنی تلاش میںاک سمت رہ

تھے مہربان سائے مگر میں نہیں گیا Read More »

کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئے

کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئےشجر گیا تو سمجھئے کہ آشیانے گئے جس ایک پل کے لئے ہجر سے بنا کے رکھیوہ ایک پل نہیں آیا کئی زمانے گئے کبھی نہ لوٹ کے آے وہ جلتے بجھتے چراغسیاہ رات میں جو راستہ دکھانے گئے جب ایک پھول کھلا بے شمار ہاتھ بڑھےجب

کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئے Read More »

اُجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گے

اُجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گےاِن بستیوں کو پھر سے پرانا بنائیں گے اِک پل بنا بنایا گزارا نہ جاسکااور کہہ رہے ہیں اپنا زمانہ بنائیں گے پاؤں رہے تو رقص کریں گے کسی کے ساتھآنکھیں رہیں تو آئینہ خانہ بنائیں گے دنیا میں جھوٹ بولنا آیا نہ عمر بھرمحشر میں کیا خدا سے

اُجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گے Read More »

زہد و رندی

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے

زہد و رندی Read More »

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاںایک سے ایک خوب رو ہے یہاں پر ہے بازار حسن چہروں سےجانے کس کس کی آبرو ہے یہاں کیسے آباد ہو یہ ویرانہوحشت کذب چار سو ہے یہاں آنکھ کی پتلیوں کو غور سے دیکھتیری تصویر ہو بہو ہے یہاں کیسے تاریخ لکھی جائے گیصرف تلوار اور گلو

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں Read More »

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچاور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہےجب کنیزوں کو چنا جاتا ہے دیوار کے بیچ شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشنطشت میں سر بھی پڑے ہوتے ہیں دربار کے بیچ کبھی اس راہ میں

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ Read More »