MOJ E SUKHAN

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے
اور تجھے یہ حالت زندہ رکھتی ہے

ڈھو ڈھو کر ہر روز جسے تھک جاتا ہوں
اس ساماں کی سنگت زندہ رکھتی ہے

سورج نے تیزاب ہے چھڑکا شاخوں پر
گلشن کو کیا رنگت زندہ رکھتی ہے

چڑھتے سورج کی میں پوجا کرتا ہوں
یار یہی اک خصلت زندہ رکھتی ہے

چوم کے ہاتھوں کی ریکھائیں سوتا ہوں
خوابوں کی یہ دولت زندہ رکھتی ہے

پل دو پل آنگن میں تیرے رہتا ہوں
ایک یہی تو فرصت زندہ رکھتی ہے

ذوالفقار نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم