MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر

یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کرلوگ حاسد ہیں نکل آئیں گے پتھر لے کر جبکہ ہم چھو نہ سکیں ‌ دل سے لگا بھی نہ سکیںکیا کریں گے تجھے اے مہر منور لے کر تم ذرا چپکے سے سورج کو خبر کر دینارات آجائے یہاں جب مہ و اختر لے کر […]

یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر Read More »

ایک بھی چھینٹ نہ اُڑنے دی کہیں پانی کی

ایک بھی چھینٹ نہ اُڑنے دی کہیں پانی کیریت نے آپ سمندر کی نگہبانی کی کانچ کے جسم پہ پہنی ہے قبا پانی کیپھر بھی تہمت نہ لگے حسن پہ عریانی کی زندگی کاہشِ بے سود کا خمیازہ ہےعمر بھر ہم نے پس انداز پشیمانی کی اتنے ہی تُو نے مری راہ میں کانٹے بوئےجس

ایک بھی چھینٹ نہ اُڑنے دی کہیں پانی کی Read More »

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سےمیرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائےمیری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیںیہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے Read More »

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کوانگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیںاپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو یاد کر کے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگیایک قصہ ہوں پرانا سا بھلا دے مجھ کو ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سن جاؤںآخری بار

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو Read More »

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگییا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی وہ مری شکل مرا نام بھلانے والیاپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سےمیرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی شام ہوتے ہی وہ چوکھٹ پہ جلا کر شمعیںاپنی پلکوں پہ کئی خواب

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی Read More »

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دومیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہےاس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگواپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو اس کے سائے میں

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو Read More »

کنگن

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھاپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کواور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میںتو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کومیں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتاجب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتیتیرے ہونٹوں کی میں

کنگن Read More »

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاںکاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملاشبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے کیمپس کی نہر پر ہے ترا ہاتھ ہاتھ میںموسم بھی لا زوال ہے اور چاند رات ہے ہر اک کلی نے اوڑھ

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں Read More »

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خطاور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیںاور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط میرے لہو میں گونج رہا ہے ہر ایک لفظمیں نے رگوں کے دشت میں پالے تمہارے خط یوں تو ہیں بے شمار وفا کی نشانیاںلیکن ہر ایک

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط Read More »

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سےمیرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائےمیری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیںیہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے Read More »