یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر
یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کرلوگ حاسد ہیں نکل آئیں گے پتھر لے کر جبکہ ہم چھو نہ سکیں دل سے لگا بھی نہ سکیںکیا کریں گے تجھے اے مہر منور لے کر تم ذرا چپکے سے سورج کو خبر کر دینارات آجائے یہاں جب مہ و اختر لے کر […]
یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر Read More »