MOJ E SUKHAN

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی

وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی

اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سے
میرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی

شام ہوتے ہی وہ چوکھٹ پہ جلا کر شمعیں
اپنی پلکوں پہ کئی خواب سلاتی ہوگی

اس نے سلوا بھی لیے ہوں گے سیہ رنگ لباس
اب محرم کی طرح عید مناتی ہوگی

میرے تاریک زمانوں سے نکلنے والی
روشنی تجھ کو مری یاد دلاتی ہوگی

روپ دے کر مجھے اس میں کسی شہزادے کا
اپنے بچوں کو کہانی وہ سناتی ہوگی

وصی شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم