MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیںتری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سےکوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہےترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں نہ […]

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں Read More »

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گےان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھےصفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گےکسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا اسی انداز میں ہوتے

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے Read More »

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میںوہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کیجو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھامیں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں Read More »

بندۂ مہر بہ لب ہوں میں ثنا خواں تیرا

بندۂ مہر بہ لب ہوں میں ثنا خواں تیرادل میں رہتا ہے مقفل غم پنہاں تیرا زندگی کچھ بھی نہیں سوز محبت کے بغیرآگ اس دل کو لگے جو نہیں خواہاں تیرا قلزم عشق کے طوفان سے بچنا معلوماے دل زار اب اللہ نگہباں تیرا کیوں گل تر کو میں آئینے سے تشبیہ نہ دوںاس

بندۂ مہر بہ لب ہوں میں ثنا خواں تیرا Read More »

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہا

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہامجھ کو دل میں دل کو سمجھاتا رہا ان کی محفل میں دل پر اضطرابایک شعلہ تھا جو تھراتا رہا موت کے دھوکے میں ہم کیوں آ گئےزندگی کا بھی مزا جاتا رہا ناشگفتہ ہی رہی دل کی کلیموسم گل بارہا آتا رہا جب سے تم نے دشمنی کی

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہا Read More »

جتنے تھے ترے جلوے سب بن گئے بت خانے

جتنے تھے ترے جلوے سب بن گئے بت خانےاب چشم تماشائی کیوں کر تجھے پہچانے اسرار حقیقت کے سمجھے نہیں فرزانےتقصیر تو تھی ان کی مارے گئے دیوانے مستان محبت نے دنیا میں یہی دیکھاٹوٹے ہوئے پیمانے ٹوٹے ہوئے مے خانے پھولوں کی ہنسی سے بھی دل جن کا نہیں کھلتاان کو بھی ہنساتے ہیں

جتنے تھے ترے جلوے سب بن گئے بت خانے Read More »

حوادث پر نہ اے ناداں نظر کر

حوادث پر نہ اے ناداں نظر کرقضا سے جنگ بے خوف و خطر کر معافی بھی سزا سے کم نہیں ہےبس اب اس درگزر سے درگزر کر جہاں ڈوبی تھی کشتی آرزو کیاسی گرداب میں نکلی ابھر کر کبھی تو مائل ترک ستم ہوکبھی مجھ پر کرم کی بھی نظر کر گزارا تو یہاں مشکل

حوادث پر نہ اے ناداں نظر کر Read More »

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہےیہ بڑا اک عیب اے دنیا تری چوسر میں ہے منزل مقصود پر پہنچے تو پہنچے کس طرحڈھونڈنے والا امید و بیم کے چکر میں ہے شیخ سے کچھ ضد نہیں ہے برہمن سے کد نہیںدیر و کعبہ دونوں کا جوہر مرے ساغر میں

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے Read More »

رہا پیش نظر حسرت کا باب اول سے آخر تک

رہا پیش نظر حسرت کا باب اول سے آخر تکپڑھی کس نے محبت کی کتاب اول سے آخر تک اشارہ تک نہ لکھا کوئی اس نے ربط باہم کابہت بے ربط ہے خط کا جواب اول سے آخر تک میسر خاک ہوتا زندگی میں لطف تنہائیرہے دو دو فرشتے ہم رکاب اول سے آخر تک

رہا پیش نظر حسرت کا باب اول سے آخر تک Read More »

شش جہت آپ کو آئیں گے نظر دو بٹا تین

شش جہت آپ کو آئیں گے نظر دو بٹا تینچھ بٹا نو کے برابر ہے اگر دو بٹا تین دو کھلونے جو کبھی ہم نے تپائی پہ دھرےآ گئے صاف مہندس کو نظر دو بٹا تین طالب خیر نہ ہوں گے کبھی انسان سے ہمنام اس کا ہے بشر اس میں ہے شر دو بٹا

شش جہت آپ کو آئیں گے نظر دو بٹا تین Read More »