MOJ E SUKHAN

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے

موت کی زد کا خطر ہر فرد کو ہر گھر میں ہے
یہ بڑا اک عیب اے دنیا تری چوسر میں ہے

منزل مقصود پر پہنچے تو پہنچے کس طرح
ڈھونڈنے والا امید و بیم کے چکر میں ہے

شیخ سے کچھ ضد نہیں ہے برہمن سے کد نہیں
دیر و کعبہ دونوں کا جوہر مرے ساغر میں ہے

فکر امروز و غم فردا سراسر بے محل
تو اگر گھر میں ہے تو سب کچھ ہمارے گھر میں ہے

دم بخود فتنے ہیں ان کی شوخئ رفتار سے
ایک سناٹے کا عالم عرصۂ محشر میں ہے

میری ہی روداد وحشت سن کے فریادی ہیں سب
چاک میرے ہی جگر کا دامن محشر میں ہے

نقش الفت مٹ گیا تو داغ لفت ہیں بہت
شکر کر اے دل کہ تیرے گھر کی دولت گھر میں ہے

اس سے کیا مطلب کہ ہے کس کس کے دل میں شوق قتل
دیکھنا یہ ہے کہ دم کتنا ترے خنجر میں ہے

سلسلہ آوارگی کا فہم سے باہر ہے جوشؔ
میں بھی چکر میں ہوں میری عقل بھی چکر میں ہے

جوش ملسیانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم