MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تری یاد میں کب قیامت نہ ٹوٹی ترے غم میں کب حشر برپا نہ دیکھا

تری یاد میں کب قیامت نہ ٹوٹی ترے غم میں کب حشر برپا نہ دیکھابجز اک نگاہ مسیحا نفس کے محبت کے ماروں نے کیا کیا نہ دیکھا بہت سیر کی باغ جنت کی ہم نے مگر کچھ مزا زندگی کا نہ دیکھاکسی دل میں درد محبت نہ پایا کسی دل میں داغ تمنا نہ […]

تری یاد میں کب قیامت نہ ٹوٹی ترے غم میں کب حشر برپا نہ دیکھا Read More »

اس کے ہر رنگ سے کیوں شعلہ زنی ہوتی ہے

اس کے ہر رنگ سے کیوں شعلہ زنی ہوتی ہےان کی تصویر تو کاغذ کی بنی ہوتی ہے عقل و مذہب کی جب آپس میں ٹھنی ہوتی ہےپھر تو ہر راہ بری راہزنی ہوتی ہے یاد آتی ہے جب ان کی نگہ ناز مجھےایک برچھی مرے سینے پہ تنی ہوتی ہے کس طرح دور ہوں

اس کے ہر رنگ سے کیوں شعلہ زنی ہوتی ہے Read More »

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہےانگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے جب ناخن وحشت چلتے تھے روکے سے کسی کے رک نہ سکےاک چاک دل انسانیت سیتے ہیں تو سینا مشکل ہے اک صبر کے گھونٹ سے مٹ جاتی سب تشنہ لبوں کی تشنہ

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے Read More »

ان کے چہرے کی چمک شمس و قمر ہو جیسے

ان کے چہرے کی چمک شمس و قمر ہو جیسےان کے عارض کی ضیا نور سحر ہو جیسے دل میں ہر لحظہ یہ ہوتی ہے خلش سی محسوسناوکِ ناز کا ہلکا سا اثر ہو جیسے میری منزل کا پتہ مجھ کو بتا دے کوئیراہبر ایسا ملے کوئی خضر ہو جیسے اسی طرح میری محبت کا

ان کے چہرے کی چمک شمس و قمر ہو جیسے Read More »

گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن

ایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن عمر خضر کی اس کو تمنا کبھی نہ ہو انسان جی سکے جو محبت میں چار دن جب تک جیے نبھائیں گے ہم ان سے دوستی اپنے رہے جو دوست مصیبت میں چار دن اے جان آرزو وہ قیامت سے کم نہ تھے کاٹے ترے بغیر جو

گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن Read More »

ہم ہی ذرے رسوائی سے

ہم ہی ذرے رسوائی سےکیا شکوہ ہرجائی سے عشق میں آخر خار ہوئےلاکھ چلے دانائی سے گرویدہ کرتے ہیں پھولرنگوں اور رعنائی سے ملتے ہیں انمول رتنساگر کی گہرائی سے جھوٹ کے خول میں بیٹھا ہوںڈرتا ہوں سچائی سے جوشؔ نے سیکھی ہے پروازصرف تری انگڑائی سے اے جی جوش

ہم ہی ذرے رسوائی سے Read More »

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگا میں بھی ہوں بزم میں رقیب بھی ہےآخری فیصلہ تو اب ہوگا آئیں مے خانہ میں کبھی واعظحور بھی ہوگی اور سب ہوگا بول اے میرے دل کی تاریکیتیرا سورج طلوع کب ہوگا سنتا ہوگا صدائیں اس دل کیشام تنہائی میں وہ جب ہوگا

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا Read More »

ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے

ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سےفائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سے کچھ جو سمجھا تو مجھے سب نے ہی عاشق سمجھابات یہ خوب نکالی مرے افسانے سے زندگی اپنی نظر آنے لگی صرف سرابکبھی گزرے جو دل زار کے ویرانے سے ایک پل بھی نہ ٹھہر پاؤ گے اے سنگ زنوکوئی

ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے Read More »

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلے جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیاوہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے دل و نگاہ پہ کیوں چھا رہا ہے اے ساقییہ تیری آنکھ کا نشہ شراب سے پہلے نہ پیش نامۂ اعمال کر ابھی اے جوشؔحساب کیسا یہ

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے Read More »

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہےرات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہے خشت در خشت عقیدت نے بنایا جس کوابر آزار اسی گھر پہ ٹھہرنے کو ہے کشت برباد سے تجدید وفا کر دیکھواب تو دریاؤں کا پانی بھی اترنے کو ہے اپنی آنکھوں میں وہی عکس لیے پھرتے ہیںجیسے آئینۂ مقسوم سنورنے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے Read More »