MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیںسو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں خود آفتاب مری راہ کا چراغ بنےمگر یہ بات مرے چاند کو گوارا نہیں جو اس میں اتری تو طوفان ہی ملیں گے مجھےمیں جانتی ہوں کہ وہ موج ہے کنارا نہیں عجب فضا ہے کہ رنگ نمود […]

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں Read More »

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھاچھوٹا سا اک دیا جو سر احتساب تھا رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیادریا بھی بہہ رہا تھا جہاں پر سراب تھا وہ وقت بھی عجیب تھا حیران کر گیاواضح تھا زندگی کی طرح اور خواب تھا پہلے پڑاؤ سے ہی اسے لوٹنا پڑالمبی مسافتوں سے جسے

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا Read More »

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرومری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو سب خد و خال مرے دھند ہوئے جاتے ہیںصبح کے رنگ سے آؤ مجھے تصویر کرو جیتنا میرے لیے کرب ہوا جاتا ہےمرے پندار کو توڑو مجھے تسخیر کرو اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہےمرے اندر جو کھنڈر ہے اسے

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو Read More »

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتےایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتے اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتیاور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہےآنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے پاس آ جائیں تو بے نوری مقدر ٹھہرےدور بھی اتنے ستارے نہیں اچھے لگتے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے Read More »

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سےچھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سے مکمل ہو تو سچائی کہاں تقسیم ہوتی ہےیہ کہنا ہے محبت کے وفا کے حصہ داروں سے ٹھہر جائے در و دیوار پر جب تیسرا موسمنہیں کچھ فرق پڑتا پھر خزاؤں سے بہاروں سے بگولے آگ کے رقصاں رہے تا

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے Read More »

مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا

مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہاوہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہا میں پتھروں پہ گری اور خود سنبھل بھی گئیوہ خامشی سے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا اجالا ہوتے ہی کیسے اسے بجھاؤں گیاگر چراغ مرا تا بہ صبح جلتا رہا میں اس کے معنی و مقصد کے سنگ چنتی رہیوہ

مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا Read More »

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہےکہیں دریا سے دریا مل رہا ہے لباس ابر نے بھی رنگ بدلازمیں کا پیرہن بھی سل رہا ہے اسی تخلیق کی آسودگی میںبہت بے چین میرا دل رہا ہے کسی کے نرم لہجے کا قرینہمری آواز میں شامل رہا ہے میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوںجو

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے Read More »

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہیچراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی رہ حیات کی ہر کشمکش پہ بھاری ہےوہ بیکلی جو ترے عہد مختصر میں رہی خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہےاداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی ہمارے نام کی حق دار کس طرح ٹھہرےوہ زندگی

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی Read More »

دل ان کی یاد سے جو بہلتا چلا گیا

دل ان کی یاد سے جو بہلتا چلا گیاغم آپ اپنی آگ میں جلتا چلا گیا تو لا مکاں ہے تو مری منزل بھی بے نشاںتیرے لئے چلا تو میں چلتا چلا گیا کانٹے جہاں جہاں پہ ملے راہ عشق میںدامن بچا بچا کے نکلتا چلا گیا ناکامیوں سے کم نہ ہوا حوصلہ مراٹھوکر لگی

دل ان کی یاد سے جو بہلتا چلا گیا Read More »

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نے

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نےہر ایک سانس کو سمجھا ہے آخری میں نے سمجھ گیا وہیں راز وصال جب دیکھاحباب تیرا مآل شکستگی میں نے کرشمۂ مئے توحید اے تعال اللہسرور ہے مرے ساقی کو اور پی میں نے لگا کے ان کی محبت میں جان کی بازیتمام دولت کونین جیت

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نے Read More »