MOJ E SUKHAN

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے
رات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہے

خشت در خشت عقیدت نے بنایا جس کو
ابر آزار اسی گھر پہ ٹھہرنے کو ہے

کشت برباد سے تجدید وفا کر دیکھو
اب تو دریاؤں کا پانی بھی اترنے کو ہے

اپنی آنکھوں میں وہی عکس لیے پھرتے ہیں
جیسے آئینۂ مقسوم سنورنے کو ہے

جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

کنج تنہائی میں کھلتا ہے تخیل میرا
اور میں خوش ہوں کہ یہ گل پھر سے نکھرنے کو ہے

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم