MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرویہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کرو نہ ٹھنڈی سانسیں بھرو دور مے میں ہم نفساںیہ آگ بھڑکے گی مے خانے میں ہوا نہ کرو ہم آنکھیں بند کریں پھر دکھاؤ رنگینیجو چور پکڑا ہے تم شوخئ حنا نہ کرو چکور ہم کو بنایا دکھا […]

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو Read More »

گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں

گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیںکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیں غیر سے بوسہ زنی اور ہمیں دشنامیںمنہ لیے اپنا پشیمان سے ہم دیکھتے ہیں فصل گل اب کی جنوں خیز نہیں صد افسوسدور ہاتھ اپنا گریبان سے ہم دیکھتے ہیں آج کس شوخ کی گلشن میں حنا بندی ہےسرو رقصاں

گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں Read More »

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتیاس وقت مری جان مروت نہیں آتی نزدیک بھی جا کر نہ ملا پردہ نشیں سےجا دور ہو اے دل تجھے چاہت نہیں آتی اک ہم ہیں کہ ہیں نام مبارک پہ تصدقتم کو تو کبھی دیکھ کے الفت نہیں آتی یا رنج ہے یا ہجر ہے یا

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی Read More »

لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہ

لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہسلامت دور گردوں تک یہ شیشہ اور یہ مے خانہ نہ پوچھو نام مجھ وحشت زدہ کا دشت فرقت میںسڑی سودائی مجنوں مست بے خود زار و دیوانہ مجھے مشرک نہ سمجھو میں موحد ہوں زمانہ میںتصاویر خیالی سے بھرا ہے میرا بت خانہ ہوا مطلع جو

لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہ Read More »

پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا

پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کا جمال صاف کی موسیٰ کو تاب کب آئیجو دیکھیے تو ہے طالب خدا محبت کا ہر ایک در پہ ہے گردش میں میرا کاسۂ چشموہ شاہ حسن ہوا یہ گدا محبت کا نہ سیم و زر کی ہے حاجت نہ کچھ

پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا Read More »

سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا

سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھادنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھا سب لوٹ لیا ایک نظر دیکھ کے مجھ کواے دز‌د نگہ دل کا چرانا نہیں اچھا کیوں جھینپتے ہو غیروں میں ہاں پھر تو کہو وہگالی ہی تو تھی بات بنانا نہیں اچھا عریاں بدنی پر نہ حبابوں کی پڑے

سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا Read More »

سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے

سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیےزبان خلق کو نقارۂ خدا کہیے مسی لگا کے سیاہی سے کیوں ڈراتے ہواندھیری راتوں کا ہم سے تو ماجرا کہیے ہزار راتیں بھی گزریں یہی کہانی ہوتمام کیجیے اس کو نہ کچھ سوا کہیے ہوا ہے عشق میں خاصان حق کا رنگ سفیدیہ قتل

سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے Read More »

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کادریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کا اقلیم معانی میں عمل ہو گیا میرادنیا میں بھروسہ تھا کسے تاج و نگیں کا تقدیر نے کیا قطب فلک مجھ کو بنایامحتاج مرا پاؤں رہا خانۂ زیں کا اک بوریے کے تخت پہ اوقات بسر

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا Read More »

زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے

زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہےہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہے بھوت خبیث نازنیں گل پری بلا کہوںدل لگی اچھی یہ نہیں مجھ سے ہنسا تو کون ہے راگ خیال گاتا ہے رقص خوشی دکھاتا ہےدور سے کیوں رجھاتا ہے پاس تو آ تو کون ہے بند ہیں لب

زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے Read More »

دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے

دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے اے جانے والے دیکھ ہم برباد ہو گئے وہ تو وفا کی قید سے آزاد ہو گئے ان تلخیوں کی بس ہم ہی روداد ہو گئے برباد کوئی ہوتا رہے ان کو اس سے کیا کچھ لوگ ہم کو دیکھ کے آباد ہوگئے آنکھوں میں جو بھی

دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے Read More »