MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں

خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں آپ اک آواز دیں چلنے کو ہم تیار ہیں اپنے اپنے راستے چل دیں مناسب ہے یہی اب نبھانے کے نظر آتے نہیں آثار ہیں کون کتنا راہ پر ہے کون کتنا ہے غلط چھوڑیے سرکار اب یہ فیصلے دشوار ہیں کیسی بے چینی ہے چھائی […]

خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں Read More »

یہ عارضہ ہے بلا ہے یہ کیا ہوا ہے مجھے

یہ عارضہ ہے بلا ہے یہ کیا ہوا ہے مجھے طبیب کہتا ہے اک روگ اب نیا ہے مجھے تو میرے بارے میں کیسے یہ رائے رکھتا ہے بھلا بتا تو سہی کتنا جانتا ہے مجھے کیوں میرے کان میں آکر یوں بات کرتا ہے بتا دوں سارے زمانے کو کیا کہا ہے مجھے ترا

یہ عارضہ ہے بلا ہے یہ کیا ہوا ہے مجھے Read More »

یہی کیا زندگی میں میری ہر کوشش کا حاصل ہے

یہی کیا زندگی میں میری ہر کوشش کا حاصل ہے کہ تنہائی و ناکامی ہی اب مدِمقابل ہے دلِ ناداں نے میرے تجھ کو چاہا ہے ہر اک لمحہ تجھے احساس کیوں ہوگا تو بےحس ہے تو بے دل ہے یہی رشتہ ہزاروں نام کے رشتوں پہ ہے بھاری تو کچھ بھی تو نہیں میرا

یہی کیا زندگی میں میری ہر کوشش کا حاصل ہے Read More »

زیست رعنائیوں سے بھر دی ہے

زیست رعنائیوں سے بھر دی ہےراہ کیوں پھر یہ پرخطر دی ہے شکر تیرا ادا میں کرتی ہوں مجھ کو نعمت تمام تر دی ہے درد سے بھر دیا ہے اس دل کو کس لیے آہ بےاثر دی ہے میں نہیں ہوں نہیں ہوں ماہرِ فن تونے دنیا ہی بےہنر دی ہے فیصلے اپنے لے

زیست رعنائیوں سے بھر دی ہے Read More »

مجھے عشق میں بےوفائی نہ دے

مجھے عشق میں بےوفائی نہ دے مرے پیار کو تو جدائی نہ دے خدایا عطا کر سہاگن کا جوڑا تو بے رنگ رنگِ حنائی نہ دے غریبوں کی بیٹی کا تو ہی محافظ کسی باپ کو جگ ہنسائی نہ دے مرا غم ہے سارے جہاں میں نمایاں تجھے دیدہ ور کیوں دکھائی نہ دے مرا

مجھے عشق میں بےوفائی نہ دے Read More »

دل دھڑکتا ہے سانس لیتی ہوں

دل دھڑکتا ہے سانس لیتی ہوں میں کہ صدیوں سے ظلمتوں میں گم روشنی کی نئی تلاش لیے میرے اندر ہے اک تجلی سی اور باہر فقط اندھیرا ہے میری دنیا میں اتنی ویرانی اے خدا کیوں اجل سے قائم ہے؟ میری ویرانی میرا سوناپن کتنی وحشت ہے ان نگاہوں میں کتنے بہکے ہوئے خیال

دل دھڑکتا ہے سانس لیتی ہوں Read More »

زخموں کی کیسے ناپیں وہ گہرائی آج کل

زخموں کی کیسے ناپیں وہ گہرائی آج کلجو کر رہے ہیں زلزلہ پیمائ آج کل ہر سانس جھوٹ لگتی ہے اس مایا جال میں ہم جی رہے ہیں کیسی یہ سچائی آج کل اب خوب دیکھتی ہوں میں اپنے تمام عیب بڑھنے لگی ہے دیکھ لو بینائ آج کل ہم اس وبا کے خوف سے

زخموں کی کیسے ناپیں وہ گہرائی آج کل Read More »

ستارے آنکھوں میں اب جھلملائے ہیں کیا کیا

ستارے آنکھوں میں اب جھلملائے ہیں کیا کیا کہ جگنوؤں سے وہی جگمگائے ہیں کیا کیا ہوئی ہے کیسے فضا آج ساری زہریلی سیاستوں نے بھی فتنے جگائے ہیں کیا کیا وہ کم نصیب ہے مظلوم ہے وہ عورت ہے زمانے تونے ستم اس پہ ڈھائے ہیں کیا کیا ہم اپنی سادہ دلی سے فریب

ستارے آنکھوں میں اب جھلملائے ہیں کیا کیا Read More »

اک تلاطم میں سدا بحرِ یقیں رہتا ہے

اک تلاطم میں سدا بحرِ یقیں رہتا ہے کوئی تو ہے جو مرے دل کے قریں رہتا ہے نازنینوں سی ادائیں نہ دکھائیں صاحب آپ کی ہاں میں مکیں صرف نہیں رہتا ہے دل سے اللّٰہ کو کرتے ہی نہیں یاد کبھی نقص نیت میں کہیں زیرِ جبیں رہتا ہے میں ہوں قارون کا اک

اک تلاطم میں سدا بحرِ یقیں رہتا ہے Read More »

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوںکہ اپنے فن سے پتھر کو بھی آئینہ بناتا ہوں میں انساں ہوں مرا رشتہ براہیمؔ اور آزرؔ سےکبھی مندر کلیسا اور کبھی کعبہ بناتا ہوں مری فطرت کسی کا بھی تعاون لے نہیں سکتیعمارت اپنے غم خانے کی میں تنہا بناتا ہوں نہ جانے

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں Read More »