خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں
خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں آپ اک آواز دیں چلنے کو ہم تیار ہیں اپنے اپنے راستے چل دیں مناسب ہے یہی اب نبھانے کے نظر آتے نہیں آثار ہیں کون کتنا راہ پر ہے کون کتنا ہے غلط چھوڑیے سرکار اب یہ فیصلے دشوار ہیں کیسی بے چینی ہے چھائی […]
خوابِ غفلت میں نہیں ہیں ہم سدا بیدار ہیں Read More »