مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں
مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیںہائے موسم کی طرح دوست بدل جاتے ہیں ہم ابھی تک ہیں گرفتار محبت یاروٹھوکریں کھا کے سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں وہ کبھی اپنی جفا پر نہ ہوا شرمندہہم سمجھتے رہے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں عمر بھر جن کی وفاؤں پہ بھروسہ کیجےوقت […]
مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں Read More »