MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیںہائے موسم کی طرح دوست بدل جاتے ہیں ہم ابھی تک ہیں گرفتار محبت یاروٹھوکریں کھا کے سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں وہ کبھی اپنی جفا پر نہ ہوا شرمندہہم سمجھتے رہے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں عمر بھر جن کی وفاؤں پہ بھروسہ کیجےوقت […]

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں Read More »

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہےابھی اذان کی آواز آنے والی ہے تجھے یقین تو شاید نہ آئے گا لیکنیہ صبح کوئی کرشمہ دکھانے والی ہے کسے خبر ہے کہ آندھی چلائے پیڑ گرائےیہی ہوا جو پتنگیں اڑانے والی ہے سمیٹ بکھرے ہوئے کاغذات کو اپنےکوئی صدا تجھے واپس بلانے والی ہے

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے Read More »

ہم جو دن رات یہ عطر دل و جاں کھینچتے ہیں

ہم جو دن رات یہ عطر دل و جاں کھینچتے ہیںنفع کم کرتے ہیں اے یار زیاں کھینچتے ہیں سوچنے کے لیے موضوع سخن کوئی نہیںصبح سے شام تلک صرف دھواں کھینچتے ہیں میں نے مدت سے کوئی سچ بھی نہیں بولا ہےپھر مجھے دار پہ کیوں اہل جہاں کھینچتے ہیں اب بھی رہتے ہیں

ہم جو دن رات یہ عطر دل و جاں کھینچتے ہیں Read More »

جی کا جنجال ہے عشق میاں قصہ یہ تمام کرو والیؔ

جی کا جنجال ہے عشق میاں قصہ یہ تمام کرو والیؔبڑی رات گئی اب سو جاؤ کچھ دیر آرام کرو والیؔ سب جاگنے والے راتوں کے شب زندہ دار نہیں ہوتےتم اپنے ساتھ میں اوروں کی کیوں نیند حرام کرو والیؔ سب بچھڑے ساتھی مل جائیں مرجھائیں چہرے کھل جائیںسب چاک دلوں کے سل جائیں

جی کا جنجال ہے عشق میاں قصہ یہ تمام کرو والیؔ Read More »

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھاکھجوروں کے درختوں کے تلے اک گھر بناتا تھا میں آنکھیں بند کر کے سوچتا رہتا تھا پہروں تکخیالوں میں بہت نازک سا اک پیکر بناتا تھا میں اکثر آسماں کے چاند تارے توڑ لاتا تھااور اک ننھی سی گڑیا کے لیے زیور بناتا تھا

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا Read More »

پھر وہی ریگ بیاباں کا ہے منظر اور ہم

پھر مقابل میں ہے اک ظالم کا لشکر اور ہم رات کو پچھلے پہر کوئی بلاتا ہے ہمیں اور لپٹ کر روز سو جاتے ہیں چادر اور ہم زخم سر کی داستاں اب یاد بھی آتی نہیں آشنا تھے کس قدر پہلے یہ پتھر اور ہم اب تو اک مدت سے ہیں دیوار و در

پھر وہی ریگ بیاباں کا ہے منظر اور ہم Read More »

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گےمٹ بھی جائیں گے تو ہم اک داستاں ہو جائیں گے میں نے تیرے ساتھ جو لمحے گزارے تھے کبھیآنے والے موسموں میں تتلیاں ہو جائیں گے کیا خبر کس سمت میں پاگل ہوا لے جائے گیجب پرانے کشتیوں کے بادباں ہو جائیں گے تجھ کو شہرت

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے Read More »

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہےلیکن یہ لگ رہا ہے کہ تو میرے پاس ہے دریا دکھائی دیتا ہے ہر ایک ریگ زارشاید کہ ان دنوں مجھے شدت کی پیاس ہے حیرت سے سب کو تکتے ہیں پتھر بنے ہوئےجادوگروں کے شہر میں اپنا نواس ہے تم کو سنا رہا ہے

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے Read More »

یوں تو ہنستے ہوئے لڑکوں کو بھی غم ہوتا ہے

یوں تو ہنستے ہوئے لڑکوں کو بھی غم ہوتا ہےکچی عمروں میں مگر تجربہ کم ہوتا ہے سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیںاور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے اس طرح روز ہم اک خط اسے لکھ دیتے ہیںکہ نہ کاغذ نہ سیاہی نہ قلم ہوتا ہے ایک ایک لفظ تمہارا تمہیں

یوں تو ہنستے ہوئے لڑکوں کو بھی غم ہوتا ہے Read More »

برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا

برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لااے باد صبا خاک در یار ادھر لا صیاد سے کیا فکر ہے اے طائر مضموںکاغذ کے تجھے پر بھی لگیں کام تو کر لا لے جا دل بے تاب نشانی مری قاصدسیماب سے ہے مرتبۂ عشق خبر لا یہ کان ہیں مشتاق خبر قاصد جاناںآنکھوں

برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا Read More »