MOJ E SUKHAN

پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا

پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا
برا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کا

جمال صاف کی موسیٰ کو تاب کب آئی
جو دیکھیے تو ہے طالب خدا محبت کا

ہر ایک در پہ ہے گردش میں میرا کاسۂ چشم
وہ شاہ حسن ہوا یہ گدا محبت کا

نہ سیم و زر کی ہے حاجت نہ کچھ حکومت کی
اگال دے کے دیا خوں بہا محبت کا

کدھر سے جاتا تھا اخترؔ یہ کیا ہوا افسوس
خدا بچائے ہوا سامنا محبت کا

واجد علی شاہ اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم