MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گےمتاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤکہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستہ دیں گے جلائے ہیں دیئے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھویہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا […]

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے Read More »

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میراازل سے تا بہ ابد صرف اک سفر میرا خراج مجھ کو دیا آنے والی صدیوں نےبلند نیزے پہ جب ہی ہوا ہے سر میرا عطا ہوئی ہے مجھے دن کے ساتھ شب بھی مگرچراغ شب میں جلا دیتا ہے ہنر میرا سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا Read More »

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گادل خشک رہا تو کہیں ساون نہ ملے گا تم پیار کی سوغات لیے گھر سے تو نکلورستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینااب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا سوتے ہیں بہت چین سے وہ

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا Read More »

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نےآج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھالکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرحجسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہادست

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے Read More »

واسوخت میر تقی میر

یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھی فکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھیزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھی شانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیراآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا آگہی حسن سے اپنے تجھے

واسوخت میر تقی میر Read More »

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گا داد بیداد کی اس میں کوئی تخصیص نہیںنقش ہستی میں کوئی رنگ تو بھر جائے گا آپ اگر مائل تجدید ستم ہو جائیںرنگ تعلیم وفا اور نکھر جائے گا ارض تشنہ پہ برس ابر رواں کھل کے برسبات رہ جائے

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا Read More »

کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیں

کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیںبرف کی سل سے نکلتا ہوا شعلہ دیکھیں جن کو منزل طلبی میں ہو تلاش رہبررہنمائی کو مرے نقش کف پا دیکھیں پاؤں کی روندی ہوئی خاک ہے اپنے سر پرہم نے چاہا تھا کہ عالم تہہ و بالا دیکھیں نرم اور گرم نگاہی پہ نہیں اپنی

کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیں Read More »

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہے یہ حجابات تعین مجھے منظور نہیںفکر آزاد کو بندش کا گماں ہوتا ہے لطف پیہم نہ سہی جور مسلسل ہی سہیہر توجہ پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے ان کے آگے لب اظہار پہ ہے مہر سکوتایک خاموش پرستش

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے Read More »

اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہے

اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہے ہاں وہ کافر نعمت کور ذوق ہے یاروجو غم محبت کو حادثہ بتاتا ہے جیتے جی کا رشتہ ہے روح و جسم کا رشتہدھوپ کے تعاقب میں سایہ مات کھاتا ہے جب زبان بندی ہو نظریں کام کرتی ہیںاک پیام آتا

اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہے Read More »

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیں بے یقینی سوئے ظن ایمان ناقص کی دلیلفکر راحت خطرۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں ہم سے پوچھو ہم بتائیں غایت کون و مکاںکار گاہ ابن آدم کے سوا کچھ بھی نہیں آتش نفرت سے

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں Read More »