MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہےابھی زمانے کا معیار آگہی کیا ہے قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہے زمیں پہ لالہ و گل آسماں پہ ماہ و نجومنگاہ حسن طلب کے لیے کمی کیا ہے کمند ڈال رہا ہے جو چاند […]

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے Read More »

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے کچھ اور زیادہ اثر تشنہ لبی ہےجب سے تری آنکھوں سے چھلکتی ہوئی پی ہے اس جبر کا اے اہل جہاں نام کوئی ہےکلفت میں بھی آرام ہے غم میں بھی خوشی ہے ارباب چمن اپنی بہاروں سے یہ پوچھیںدامان

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے Read More »

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیافاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیا ہے وہی جبر اسیری اور وہی غم کا قفسدل پہ بن آئی تو کیا یہ روح گھبرائی تو کیا اپنی بے تابئ دل کا خود تماشا بن گئےآپ کی محفل کے بنتے ہم تماشائی تو کیا بات

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا Read More »

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہے یوں تو گلشن میں ہیں سب مدعیٔ یک رنگیباوجود اس کے ہر اک رنگ جدا لگتا ہے کبھی دشمن تو کبھی دوست کبھی کچھ بھی نہیںمجھے خود بھی نہیں معلوم وہ کیا لگتا ہے اس کی باتوں میں ہیں انداز غلط

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے Read More »

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کاکچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے ذہن ابھارتا ہے نقش حال و ماضی کےان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے تہہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیںاور

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے Read More »

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئےبے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئے خوابوں کی ناؤ اور سمندر کا مد و جزرٹکرا کے پاش پاش اسے ہو جانا چاہئے نشتر زنی تو شیوۂ ارباب فن نہیںان دل جلوں کو بات یہ سمجھانا چاہئے ہو رقص زندگی کے جہنم کے ارد گردپروانہ بن کے کس

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے Read More »

بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا

بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑاہمیں بھی داد کا مرہم گوارا کرنا پڑا بہت ہوس تھی مجھے رزق شعر کی لیکنجو مل رہا تھا اسی پر گزارا کرنا پڑا کھڑی تھی میرے لئے آنسوؤں کی بارش میںسو تیری یاد سے ملنا گوارا کرنا پڑا میں اس سے کم پہ زمانہ مرید کر لیتاخیال عشق میں

بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا Read More »

ہم سایے سے طلب کروں پانی کے بعد کیا

ہم سایے سے طلب کروں پانی کے بعد کیارہتا ہے ہوش نقل مکانی کے بعد کیا یہ کیسی توڑ پھوڑ ہے شہر وجود میںآتنک مچ گیا ہے جوانی کے بعد کیا پانی کے پاؤں کاٹنے پہ تل گئے ہو تمدریا میں بچ رہے گا روانی کے بعد کیا باتوں کے ساتھ منہ سے ٹپکنے لگا

ہم سایے سے طلب کروں پانی کے بعد کیا Read More »

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہےبہشت خاک میں اے رفتگاں کیا چل رہا ہے پرانے دکھ نئے کپڑے پہن کر آ گئے ہیںیہ اپنے شہر میں آزردگاں کیا چل رہا ہے یہ جن کے اشک میری جان کو آئے ہوئے ہیںمیں ان سے پوچھ بیٹھا تھا میاں کیا چل رہا ہے ہمارا

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے Read More »

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گےکسی نے ہم سے بھی حال پوچھا تو کیا کہیں گے جو سر کے بل خاک میں گڑے ہیں کسی نے ان سےبلندیوں کا مآل پوچھا تو کیا کہیں گے زمانے بھر کو تو ہم نے خاموش کر دیا ہےجو دل نے بھی اک سوال پوچھا

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے Read More »