MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں
اس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیں

بے یقینی سوئے ظن ایمان ناقص کی دلیل
فکر راحت خطرۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم سے پوچھو ہم بتائیں غایت کون و مکاں
کار گاہ ابن آدم کے سوا کچھ بھی نہیں

آتش نفرت سے اب دنیا ہے ایسے موڑ پر
دیدہ ور گو یہ جہنم کے سوا کچھ بھی نہیں

یاد ایامے کہ یہ بھی جان رزم و بزم تھے
جن کے پاس اب چشم پر نم کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم نہیں منجملہ اہل رضا کیوں کر کہیں
جن کے لب پر قصۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

اہل دنیا کے لیے جو ابر نیساں تھا عروجؔ
اب وہ انساں اشک شبنم کے سوا کچھ بھی نہیں

عروج زیدی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم