MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے

یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہےجانے کس حسن کی دیوانگی رکھی ہوئی ہے وہ جو اک موج محبت ترے رخ پر جھلکیآنکھ میں آج بھی اس کی نمی رکھی ہوئی ہے وقت دیتا ہے جو پہچان تو یہ دیکھتا ہےکس نے کس درد میں دل کی خوشی رکھی ہوئی ہے […]

یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے Read More »

بڑی مشکل سے چھپایا ہے کوئی دیکھ نہ لے

بڑی مشکل سے چھپایا ہے کوئی دیکھ نہ لےآنکھ میں اشک جو آیا ہے کوئی دیکھ نہ لے یہ جو محفل میں مرے نام سے موجود ہوں میںمیں نہیں ہوں مرا دھوکا ہے کوئی دیکھ نہ لے سات پردوں میں چھپا کر اسے رکھا ہے مگردل کو اب بھی یہی دھڑکا ہے کوئی دیکھ نہ

بڑی مشکل سے چھپایا ہے کوئی دیکھ نہ لے Read More »

بر طرف کر کے تکلف اک طرف ہو جائیے

بر طرف کر کے تکلف اک طرف ہو جائیےمستقل مل جائیے یا مستقل کھو جائیے کیا گلے شکوے کہ کس نے کس کی دل داری نہ کیفیصلہ کر ہی لیا ہے آپ نے تو جائیے میری پلکیں بھی بہت بوجھل ہیں گہری نیند سےرات کافی ہو چکی ہے آپ بھی سو جائیے آپ سے اب

بر طرف کر کے تکلف اک طرف ہو جائیے Read More »

بوندوں کی طرح چھت سے ٹپکتے ہوئے آ جاؤ

بوندوں کی طرح چھت سے ٹپکتے ہوئے آ جاؤبرسات کا موسم ہے برستے ہوئے آ جاؤ خوشبو ہو تو جھونکے کی طرح پھول سے نکلودل ہو تو مری جان دھڑکتے ہوئے آ جاؤ دو گام پے مے خانہ ہے دفتر سے نکل کراس بھیگتے موسم میں ٹہلتے ہوئے آ جاؤ موسم کے بہانے گل و

بوندوں کی طرح چھت سے ٹپکتے ہوئے آ جاؤ Read More »

لہراتا ہے خواب سا آنچل اور میں لکھتا جاتا ہوں

لہراتا ہے خواب سا آنچل اور میں لکھتا جاتا ہوںپلکیں نیند سے بوجھل اور میں لکھتا جاتا ہوں جیسے میرے کان میں کوئی چپکے چپکے کہتا ہےعشق جنوں ہے عشق ہے پاگل اور میں لکھتا جاتا ہوں چھوٹی چھوٹی بات پہ اس کی آنکھیں بھر بھر آتی ہیںپھیلتا رہتا ہے پھر کاجل اور میں لکھتا

لہراتا ہے خواب سا آنچل اور میں لکھتا جاتا ہوں Read More »

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سےوہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباںرنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے اک عمر ہوئی اس کے در و بام کو تکتےآواز کوئی آئی یہاں سے نہ وہاں سے اٹھتے ہیں تو دل بیٹھنے لگتا ہے

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے Read More »

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسا

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسااک مرا یار ہے اور یار بھی ایسا ویسا دشمن جاں بھی نہیں کوئی برابر اس کےاور مرا حاشیہ بردار بھی ایسا ویسا بے تعلق ہی سہی اس کو مگر ہے مجھ سےاک سروکار سروکار بھی ایسا ویسا اس کا لہجہ کہ بہت سادہ و معصوم

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسا Read More »

تسبیح و سجدہ گاہ بھی سجدہ بھی مست مست

تسبیح و سجدہ گاہ بھی سجدہ بھی مست مستقبلہ بھی مست مست ہے کعبہ بھی مست مست قطرہ بھی اپنی موج میں دجلہ بھی موج میںدریا بھی مست مست ہے صحرا بھی مست مست خورشید و ماہتاب بھی ذرہ بھی بے دماغادنیٰ و پست و ارفع و اعلیٰ بھی مست مست میرا وجود اور وجود

تسبیح و سجدہ گاہ بھی سجدہ بھی مست مست Read More »

ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی

ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی دلیل کے بغیر بھی جواز کے بغیر بھی مثال کیا کہ سر بسر ترا وجود شاعری کلام کے بغیر بھی بیاض کے بغیر بھی تری طلب کا فاصلہ خلش نے طے کرا دیا سلوک کے بغیر بھی لحاظ کے بغیر بھی گزر رہی تھی زندگی گزر رہی

ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی Read More »

تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گی

تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گیلگ رہا ہے کہ محبت مجھے لے ڈوبے گی حالت عشق میں ہوں اور یہ حالت ہے کہ ابیک لمحے کی بھی فرصت مجھے لے ڈوبے گی اب میں سمجھا ہوں کہ یہ درد محبت کیا ہےیہ ترے پیار کی شدت مجھے لے ڈوبے گی میری

تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گی Read More »