MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیاپا بہ زنجیر کیا اور مجھے چھوڑ دیا اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاضاور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کردل کو آنکھوں میں دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا ہم کو معلوم تھا انجام محبت ہم نےآخری […]

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا Read More »

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگمگر یہ آنکھ کہ جو ڈھونڈتی تھی ذات کے رنگ ہمارے شہر میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیںسفر کی سمت بتاتے ہیں جن کو رات کے رنگ الجھ کے رہ گئے چہرے مری نگاہوں میںکچھ اتنی تیزی سے بدلے تھے ان کی بات کے رنگ بس ایک

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ Read More »

یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں

یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوںاپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اوراپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیںلہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گےآنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں

یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں Read More »

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیاآندھی نے میرے شہر کا نقشہ بدل دیا پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیےاس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا کتنا عجیب ہے وہ مصور کہ غور سےدیکھے جو خد و خال تو چہرہ بدل دیا وہ کھیل تھا مذاق تھا یا خوف تھا

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا Read More »

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کاجو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سےاگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہوجو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا یقین کرنے لگے لوگ

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا Read More »

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیںاس کا ملنا مجھے مشکل نہ ہو آسان نہیں کوئی دم اور ہے بس خاک ہوئے جانے میںخاک بھی ایسی کہ جس کی کوئی پہچان نہیں ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسےدل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں بوجھ ہے عشق

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں Read More »

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہوسمیٹ لے گا مجھے اس کا اعتبار بھی ہو نئی رتوں میں وہ کچھ اور بھی قریب آئےگئی رتوں کا سلگتا سا انتظار بھی ہو میں اس کے ساتھ کو ہر لمحہ معتبر جانوںوہ ہم سفر ہے تو مجھ سا ہی بے دیار بھی ہو مرے خلوص

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو Read More »

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیاحسرتوں کی آغوش میں پلتے ایک زمانہ بیت گیا آج بھی ہیں وہ سلگے سلگے تیرے لب و عارض کی طرحجن زخموں پر پنکھا جھلتے ایک زمانہ بیت گیا میں اب اپنا جسم نہیں ہوں صرف تمہارا سایہ ہوںموسم کی یہ برف پگھلتے ایک زمانہ بیت

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا Read More »

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنا

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنانہ آیا ہم کو برہنہ گزارشیں لکھنا ترے جہاں میں ہوں بے سایہ ابر کی صورتمرے نصیب میں بے ابر بارشیں لکھنا حساب درد تو یوں سب مری نگاہ میں ہےجو مجھ پہ ہو نہ سکیں وہ نوازشیں لکھنا خراشیں چہرے کی سینے کے زخم سوکھ چلےکہاں ہیں

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنا Read More »

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دیناہٹا کر مجھ کو تم منظر سے پس منظر پہ لکھ دینا خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوںذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا اسی کی دید سے محروم جس کو دیکھنا چاہوںمری آنکھوں کو اس کے خواب گوں

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا Read More »