کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھمجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق تراتمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پرتجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروںمرا عروج مری ساعت […]
کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ Read More »