MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھمجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق تراتمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پرتجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروںمرا عروج مری ساعت […]

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ Read More »

گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر

گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کراتر گیا وہ مری روح میں خدا بن کر ترا خیال شب ہجر پھیلتا ہی گیاہزار رنگ کی سوچوں کا سلسلہ بن کر وفا کے سنگ سے ٹکرا کے احتجاج‌ اناصلیب لب پہ سسکنے لگا دعا بن کر بدن کے دشت میں من کی حسین صبحوں کونکل

گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر Read More »

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگےنکل گئے اپنی دھن میں اس کے نگر سے آگے شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیںنگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے یہ دل شب و روز اس کی گلیوں میں گھومتا ہےوہ شہر جو بس رہا ہے دشت نظر سے آگے خجل

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے Read More »

کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہے

کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہےیہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہے کس بھیس کوئی موج ہوا ساتھ لگا لےکس دیس نکل جائے یہ دل کس کو پتا ہے اک ہاتھ کی دوری پہ ہیں سب چاند ستارےیہ عرشۂ جاں کس دم دیگر کی عطا ہے آہنگ شب و روز کے نیرنگ

کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہے Read More »

رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہی

رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہیاک اک برگ چمن نے کیسی کیسی بات کہی آنکھیں رنگ برنگ سجے رستوں سرشار ہوئیںدل کی خلش نے منظر منظر ایک ہی بات کہی ہر اظہار کی تہ میں ایک ہی معنی پنہا تھےاپنی طرف سے سب نے اپنی اپنی بات کہی آج بھی

رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہی Read More »

ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤ

ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤحصار ذات سے باہر نکل پاؤ تو آؤ زمانوں سے فقط لہریں گمانوں کی گنو ہوکسی دن تم یہ دریا پار کر جاؤ تو آؤ حد خواہش میں جینا ہے تو جاؤ راہ اپنینہ دشت شوق کی وسعت سے گھبراؤ تو آؤ عجب بے اختیارانہ تھی ہر آمد تمہاریاسی موج

ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤ Read More »

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہےسر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیںشعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاںایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے مدعی تخت کے آتے ہیں چلے جاتے ہیںشہر

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے Read More »

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میںبدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میں نہ آئی راس بناوٹ کی زندگی مجھ کومیں شہر چھوڑ کے پھر آ گیا ہوں گاؤں میں قدم قدم پہ نیا اک خدا نظر آیانہ جانے کون سا برحق ہے ان خداؤں میں کوئی امید کی بارش کا اہتمام کرومیں جل

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں Read More »

تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے

تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہےہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے بس اک ڈھلوان ہے جس پر لڑھکتے جا رہے ہیں ہمہمیں جانے نشیبوں میں کہاں جا کر سنبھلنا ہے ہم اس ڈر سے کوئی سورج چمکنے ہی نہیں دیتےکہ جانے شب کے اندھیاروں سے کیا منظر نکلنا ہے ہمارے

تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے Read More »

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہےیہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے لہو برفاب کر دے گی تھکن یکسانیت کیسو کچھ فتنے جگا دینا ضروری ہو گیا ہے گرا دے گھر کی دیواریں نہ شوریدہ سری میںہوا کو راستہ دینا ضروری ہو گیا ہے بہت شب کے ہوا خواہوں کو

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے Read More »