MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نظر کی فتح کبھی قلب کی شکست لگے

نظر کی فتح کبھی قلب کی شکست لگےمری حیات پرائے کا بند و بست لگے نہ وہ نقوش نہ حسن کشش کی بات رہیصنم فروش بھی جیسے خدا پرست لگے ابھی ملا تھا ابھی پھر بچھڑ گیا کوئییہ حادثہ بھی حکایات بود و ہست لگے فرشتے دیکھ رہے ہیں زمین و چرخ کا ربطیہ فاصلہ […]

نظر کی فتح کبھی قلب کی شکست لگے Read More »

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگامگر دل ہے ابھی تک تشنۂ پیغام کیا ہوگا وہ بیتاب تماشہ ہی سہی اے تاب نظارہلرز اٹھتا ہے دل یہ سوچ کر انجام کیا ہوگا یہاں جو کچھ بھی ہے وہ پرتو احساس ہے ساقیبجز بادہ جواب گردش ایام کیا ہوگا کبھی جس کے یقیں سے کائنات

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا Read More »

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گےآپ جب اور مرے اور نگیچے ہوں گے آئنہ پوچھے گا جب رات کہاں تھے صاحباپنی بانہوں میں وہ اپنے ہی کو بھینچے ہوں گے جس طرف چاہئے گا آپ چلے جائیے گاسامنے چاند کے ہم آنکھوں کو میچے ہوں گے آج پھر گزریں گے قاتل کی

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے Read More »

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیںادھر بھی اہل جنوں سر بدلتے رہتے ہیں بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانیمگر جو دوست ہیں پیکر بدلتے رہتے ہیں ہم ایک بار جو بدلے تو آپ روٹھ گئےمگر جناب تو اکثر بدلتے رہتے ہیں یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشۂ دولتکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں Read More »

اداس کاغذی موسم میں رنگ و بو رکھ دے

اداس کاغذی موسم میں رنگ و بو رکھ دےہر ایک پھول کے لب پر مرا لہو رکھ دے زبان گل سے چٹانیں تراشنے والےنگار و نقش میں آسائش نمو رکھ دے سنا ہے اہل خرد پھر چمن سجائیں گےجنوں بھی جیب و گریباں پئے رفو رکھ دے شفق ہے پھول ہے دیپک ہے چاند بھی

اداس کاغذی موسم میں رنگ و بو رکھ دے Read More »

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلاتو نے ٹھوکر جو لگا دی تو مرا سر نکلا لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیںمیں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا ایک وہ شخص جو پھولوں سے بھرے تھا دامنہر کف گل میں چھپائے ہوئے خنجر نکلا یوں تو الزام ہے

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا Read More »

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیںخود بخود راہ کے آثار بدل جاتے ہیں ہم تو ان لوگوں میں شامل ہیں ہمارا کیا ہےجو امیدوں کے سہارے ہی بہل جاتے ہیں میری آنکھوں میں ترے ہجر کے آنسو ہیں جمےوہ مرے جذبوں کی حدت سے پگھل جاتے ہیں صبح صادق کی طرح اجلے

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں Read More »

کٹی پتنگ ہوں میں اور بے سہارا ہوں

کٹی پتنگ ہوں میں اور بے سہارا ہوںمجھے کہا نہیں اس نے کہ میں تمہارا ہوں یہ مجھ میں آتش بے سوز جلتی رہتی ہےمیں روشنی ہوں میں جگنو ہوں استعارہ ہوں ترے حصول کی گردش میں کھو گئی ہوں میںمجھے بتا کہ میں ذرہ ہوں یا ستارا ہوں میں ایک قطرۂ شبنم ہوں دیدہ

کٹی پتنگ ہوں میں اور بے سہارا ہوں Read More »

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہےوہ ظالم صرف اپنے ہاتھ کا پتھر بدلتا ہے کئی تبدیلیاں ہوتی ہیں انسانوں کی بستی میںپرندہ کوئی دیکھا ہے جو اپنا گھر بدلتا ہے جو ہم نے اپنی آنکھیں پھینک دی ہیں اس کے قدموں پہسو اپنی آنکھیں ہر اک گام پر دلبر بدلتا ہے

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ وہ تیور بدلتا ہے Read More »

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھااسی اک خواب نے ہر موڑ پر مجھ کو رلایا تھا ترے اک قہقہے نے جس کو اک پل میں گرا ڈالاگھروندا وہ تو میں نے اپنے اشکوں سے بنایا تھا خوشی سے اڑتے اڑتے آ گئے اس شاخ پر بھونرےجہاں کانٹوں نے اس کی موت کا

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا Read More »