MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بند ہتھیلی میں ہیں سب

بند ہتھیلی میں ہیں سبجنگل ویرانے اور شب دریا اتر گیا تو کیانیا ڈوب گئی ہے اب پلکیں نم تھیں اور کوئیمیرے سنگ نہ رویا تب لوگ مجھے پاگل کہتےسچ کے موتی چنتی جب جیون مجھ سے روٹھ گیابیناؔ دستک دی تو کب بینا گوئندی

بند ہتھیلی میں ہیں سب Read More »

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

چاندنی رات میں بلاؤں تجھےدھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپناچاند راتوں میں گنگناؤں تجھے کچھ کہے ان کہے سوال کروںاور یوں پھر سے آزماؤں تجھے اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوںکیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوںکاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے بینا

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے Read More »

آکاش پہ بادل چھائے تھے

آکاش پہ بادل چھائے تھےآنکھوں نے اشک بہائے تھے نیا کو بھنور میں دیکھا تھاجب موسم پیار کے آئے تھے اک لفظ نہ آیا ہونٹوں پرلمحے بے درد تو آئے تھے کچھ گیت سنے تھے بچپن میںکچھ میٹھے خواب چرائے تھے بیناؔ کے من میں دھوپ رہیآنکھوں میں ٹھنڈے سائے تھے بینا گوئندی

آکاش پہ بادل چھائے تھے Read More »

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میںایسی خوشبو کہاں ہے رات کی رانی میں ابھرا تھا آنکھوں میں ایک سنہرا خوابجاتے جاتے دے گیا زخم نشانی میں رات گئے تک یوں ہی تنہا ساحل پرگھومتے رہنا پاؤں پاؤں پانی میں اترا جو اس دل میں قافلہ الفت کاکیسی کیسی غزلیں ہوئیں روانی میں کیوں بے

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں Read More »

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مرا غمیہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اوراحباب پریشاں ہیں مرے طرز عمل سے تنہائی کی یہ شام

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے Read More »

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھی دشت وحشت میں بہ جز ریگ رواں کوئی نہیںآج کل شہر میں ہے لالۂ صحرائی بھی میں زمانے میں ترا غم ہوں بہ عنوان وفازندگی میری سہی ہے تری رسوائی بھی آج تو نے بھی مرے حال سے منہ

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی Read More »

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہے پھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شاموہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے کالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گادیکھ یہ

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے Read More »

میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ

میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہ تجھ سے کٹ کر کوئی دیکھے تو کہاں پہنچا ہوںجیسے ندی میں کوئی سنگ رواں آوارہ تجھ کو دیکھا ہے کہیں تجھ کو کہاں دیکھا ہےوہم ہے سر بہ گریباں و گماں آوارہ دیر و کعبہ کی روایات سے انکار

میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ Read More »

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئے صوت و سخن کے دائرے تحلیل ہو گئےقوس نظر سے دل میں اتر جانا چاہئے احساس کی زباں کو لغت سے نکال کرمعنی کی سرحدوں سے گزر جانا چاہئے دنیا کی وسعتیں ہیں بہ اندازۂ نظریہ دیکھنے کا کام ہے

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے Read More »

پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو

پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہو جہاں تمہارا ہے ہوگا وہی جو تم چاہومجھے بھی چاہنے دو کچھ اگر تو پھر کیا ہو جہان و اہل جہاں کو کسی سے کام نہیںمرے قریب تو آؤ کہ تم بھی تنہا ہو زمانہ مدفن ایام ہے خموش رہونہ جانے

پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو Read More »