MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیاکچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمرہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظریہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا […]

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا Read More »

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہےآنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے کچھ تو حساس ہم زیادہ ہیںکچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے درد دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیںخود بخود کم زیادہ ہوتا ہے سب سے پہلے انہیں جھکاتے ہیںجن میں دم خم زیادہ ہوتا ہے قیس پر ظلم تو ہوا باصرؔپھر بھی ماتم زیادہ

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے Read More »

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچاب چلے دور جام آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صافرہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشیناب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے میںسوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاؤ پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ Read More »

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ باتیہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میںدن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئےاب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات لوگ

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات Read More »

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہزیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنیملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگتصورات میں میرے ہے ایک ایسی جگہ گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھیوہ بات اپنی جگہ ہے

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ Read More »

تھا جو کبھی اک شوق فضول

تھا جو کبھی اک شوق فضولاب ہے وہی اپنا معمول کیسے یاد رہی تجھ کومیری اک چھوٹی سی بھول غم برگد کا گھنا درختخوشیاں ننھے ننھے پھول اب دل کو سمجھائے کونبات اگرچہ ہے معقول آنسو خشک ہوئے جب سےآنگن میں اڑتی ہے دھول باصر کاظمی

تھا جو کبھی اک شوق فضول Read More »

بھیتر بسنے والا خود باہر کی سیر کرے مولیٰ خیر کرے

بھیتر بسنے والا خود باہر کی سیر کرے مولیٰ خیر کرےاک مورت کو چاہے پھر کعبے کو دیر کرے مولیٰ خیر کرے عشق وشق یہ چاہت واہت من کا بھلاوا پھر من بھی اپنا کیایار یہ کیسا رشتہ جو اپنوں کو غیر کرے مولیٰ خیر کرے ریت کا تودا آندھی کی فوجوں پر تیر چلائے

بھیتر بسنے والا خود باہر کی سیر کرے مولیٰ خیر کرے Read More »

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیںسفر گمان کا ہے اور یقیں پہ چلتے ہیں ہمارے قافلہ سالاروں کے ارادے کیاچلے تو ہاں پہ ہیں لیکن نہیں پہ چلتے ہیں نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہواقدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں بنا کے ان کو اگر

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں Read More »

ہم چٹانوں کی طرح ساحل پہ ڈھالے جائیں گے

ہم چٹانوں کی طرح ساحل پہ ڈھالے جائیں گےپھر ہمیں سیلاب کے دھارے بہا لے جائیں گے ایسی رت آئی اندھیرے بن گئے منبر کے بتگنبد و محراب کیا جگنو بچا لے جائیں گے پہلے سب تعمیر کروائیں گے کاغذ کے مکاںپھر ہوا کے رخ پہ انگارے اچھالے جائیں گے ہم وفاداروں میں ہیں اس

ہم چٹانوں کی طرح ساحل پہ ڈھالے جائیں گے Read More »

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گینہ ہوں گے ہم تو کہاں جگمگاہٹیں ہوں گی میں ایک بھنورا ترے باغ میں رہوں نہ رہوںکسے نصیب مری گنگناہٹیں ہوں گی کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤگلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی نہ پوچھ پائیں گے احوال بے بسی وہ بھیمرے لبوں پہ

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی Read More »