MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

محبت پھر رہی ھے دوستو منہ کو چھپائے

محبت پھر رہی ھے دوستو منہ کو چھپائےجدھر بھی دیکھتا ہوں پیسا پیسا ہو رہا ھے نہ پھر بھی آئے وہ تو دوستو پھر اس کی مرضیاسے کہنا کہ اپنا ختم قصہ ہو رہا ھے بہت ہی ناز تھا جس شخص کو دولت پہ غزنیسنا ھے اجکل وہ میرے جیسا ہو رہا ھے محمود غزنی

محبت پھر رہی ھے دوستو منہ کو چھپائے Read More »

کہتی تھی کچھ کل اپنی ہم جولی سے

کہتی تھی کچھ کل اپنی ہم جولی سےلاش ملی ھے اس دلہن کی ڈولی سے ایک انا تھی پاس ہمارے ، لگتا ھےگر جائے گی یہ دولت بھی جھولی سے ایک حساب سے وہ بھی شخص منافق ھےجو نفرت کرتا ھے اپنی بولی سے ویسے تو ہر چیز کی قیمت ہوتی ھےمیں کتنا سستا ہوں

کہتی تھی کچھ کل اپنی ہم جولی سے Read More »

کنارے ، سانس کی ، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں

کنارے ، سانس کی ، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیںچلے بھی آؤ ! کہ اب ہچکیاں لگی ہوئی ہیں کیا گیا نہیں پیدا اگر غلام ہمیںتو پھر یہ پاؤں میں کیوں بیڑیاں لگی ہوئی ہیں ؟ کبھی کبھی تو تکبر اگلنے لگتی ہیںگھروں پہ ناموں کی جو تختیاں لگی ہوئی ہیں مرے لبوں نے تو

کنارے ، سانس کی ، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں Read More »

مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے

مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہےساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہے دیکھیے فیصلۂ یاس و تمنا کیا ہوصبح محشر کی جھلک تیرگئ شام میں ہے نگہ مست کا پھر زہد شکن دور چلےپھر ڈھلے بادۂ سرجوش جو اس جام میں ہے چھا گئے شیوۂ بیداد پہ دل کش نغمےمیں قفس

مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے Read More »

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیااب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیا اللہ رے شوق قیس کی جلوہ طرازیاںاکثر غبار دشت کو محمل بنا دیا میں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نےاک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا ہم نے اک آہ سرد کو شمع سحر کے ساتھروداد ناتمام

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا Read More »

کوچہ گردی میں جوانی جائے گی

کوچہ گردی میں جوانی جائے گیخاک ہو کر زندگانی جائے گی مٹ نہیں سکتا ہمارے دل کا داغقبر میں بھی یہ نشانی جائے گی سچ ہے میری بات کا کیا اعتبارسچ کہوں گا جھوٹ جانی جائے گی حضرت دل جب بڑھاپا آئے گاخیر مقدم کو جوانی جائے گی دل شاہ جہاں پوری

کوچہ گردی میں جوانی جائے گی Read More »

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئیان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئی یہ دور انقلاب ہے خود نوشیوں کا دورہر میکدے میں گردش مینا بدل گئی ہر پھول ہر کلی پہ برستا ہے اب لہورنگینیٔ بہار چمن کیا بدل گئی نکھری ہوئی بہار میں چھالے ہیں خونچکاںاپنے قدم سے قسمت صحرا بدل گئی پیہم ٹپک

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی Read More »

مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے

مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہےجاتے ہو کہاں رخ پھیر کے تم مجھ کو تو ابھی کچھ کہنا ہے کھینچیں گے وہاں پھر سرد آہیں آنکھوں سے لہو پھر بہنا ہےافسانہ کہا تھا جو ہم نے دہرا کے وہیں تک کہنا ہے دشوار بہت یہ منزل تھی مر مٹ کے تہہ تربت

مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے Read More »

تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم

تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہمخودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہم ساحل سے دور غرق ہوئی کشتئ امیدموجوں کو چھیڑتا ہوا طوفاں ہے اور ہم کس نے حریم ناز کا پردہ الٹ دیانظروں میں ایک شعلۂ لرزاں ہے اور ہم تیری تجلیاں ہیں جہاں تک نظر گئیاسرار کائنات کا عرفاں ہے اور

تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم Read More »

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہےیہاں تو پھر ہوا کی برہمی محسوس ہوتی ہے وہ اب بھی گفتگو کرتا ہے پہلے کی طرح لیکنذرا سی برف لہجے میں جمی محسوس ہوتی ہے ترے وعدے کا سایہ ہو تو صحرا کے سفر میں بھیجھلستی لو ہوائے شبنمی محسوس ہوتی ہے تو کیا میں ضبط

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے Read More »